اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان نے گلگت بلتستان کے حکام کو آئندہ اجلاس میں لازمی شرکت کی سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی نمائندگان کی عدم موجودگی کے باعث موسمیاتی بحران سے متعلق اہم ایجنڈا مؤخر کرنا پڑا۔ کمیٹی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے یونیورسل سروس فنڈز کے ذریعے خطے میں انٹرنیٹ کنیکٹوٹی بہتر بنانے اور نجی ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔
اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد اسد نے کی۔ اس موقع پر سینیٹر ندیم بھٹو نے گلگت بلتستان میں کمزور انٹرنیٹ اور رابطہ کاری کے مسائل کو اجاگر کیا۔ چیئرمین نے کہا کہ شہریوں کی معلومات تک رسائی آئین کے آرٹیکل 19-اے کے تحت بنیادی حق ہے جسے ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ اجلاس میں فنڈز کی تقسیم میں شفافیت سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے جن پر وزارتِ امورِ کشمیر و گلگت بلتستان نے وضاحت پیش کی۔کمیٹی نے گلگت بلتستان ایڈووکیسی فورم (جی بی اے ایف) کو ایک ماہ میں گلیشیائی جھیلوں سے پیدا ہونے والے سیلاب (GLOF) پر تجزیاتی رپورٹ اور ڈرافٹ ماحولیاتی پالیسی جمع کرانے کی ہدایت بھی دی۔
اجلاس کے بعد چیئرمین نے جی بی اے ایف کے وفد سے ملاقات کی، جس میں عامر حسین، جُبلی ہنزائی، سِمی بانو، ارم ولی خان، ماریہ جبین اور روشن دین دیامیری شامل تھے۔ وفد نے سیلابی نقصانات اور ان کے سماجی و معاشی اثرات پر تفصیلی بریفنگ دی۔جی بی اے ایف کے ترجمان نے کہا، "کمیٹی کی جواب دہی اورکنیکٹوٹی کے حوالے سے واضح ہدایات قابلِ تحسین ہیں۔ بروقت اور حقوق پر مبنی ڈیزاسٹر رسپانس کے لیے مضبوط مواصلاتی نظام اور شفاف فنڈنگ بنیادی تقاضے ہیں
جی بی اے ایف نےکمیٹی کےفیصلوں کے مطابق ایکشن پلان بھی ترتیب دیا ہے جس کے تحت:جی ایل او ایف-I اور جی ایل او ایف-II کے مضبوط اور کمزور پہلوؤں پر تجزیاتی پیپر تیار کیا جائے گا تاکہ آئندہ مرحلے کے لیے رہنمائی فراہم ہو سکے۔مقامی برادریوں کے تجربات پر مبنی سفارشات شامل کی جائیں گی۔ڈرافٹ ماحولیاتی پالیسی چیئرمین کمیٹی کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔
کمیٹی چیئرمین کے ممکنہ بہاری/اسپرنگ دورے کے دوران گلگت بلتستان میں کھلی کچہری کے انعقاد میں تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ شہری براہِ راست اپنے مسائل پیش کر سکیں۔واضح رہے کہ جی بی اے ایف ایک غیر جانب دار اوررضاکارانہ شہری پلیٹ فارم ہے جو انسانی حقوق،صنفی مساوات، سیاسی سماجی اور ماحولیات سے متعلق گورننس اور قانونی فریم ورک کو بہتر کرنے کیلئے اصلاحات پرایڈوکیسی کرتا ہے