ایران کی نیم سرکاری مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انصاراللہ کے سیاسی دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اسرائیلی فضائی حملے کو جنگی جرم اور بزدلانہ جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یمن اپنے عزم اور استقامت کے ساتھ جنگ جاری رکھے گا۔ ہم غزہ اور فلسطین کی حمایت کرتے رہیں گے اور یہ خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ اسرائیل اور تمام غاصب طاقتوں کے لیے سیاہ دن آنے والے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملہ دراصل نسل کشی اور قتلِ عام کی اس لڑائی کا حصہ ہے جو فلسطین و غزہ سے شروع ہو کر لبنان، شام اور ایران تک پہنچی اور اب یمن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔انصاراللہ نے اپنے رہنماؤں کی شہادت کو یمن کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم اور دیگر وزراء کا راہِ قدس میں اور طوفان الاقصیٰ کی معرکہ آرائی کے بیچ میں شہید ہونا ایک بڑا شرف ہے۔
یمنی عوام نے اپنی جانوں اور خون کی قربانیوں سے ثابت کردیا ہے کہ فلسطین کبھی تنہا نہیں۔ یمن اس وقت تک فلسطین کے ساتھ کھڑا رہے گا جب تک ظلم و جارحیت اورمحاصرہ ختم نہیں ہوتا۔اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ فلسطینی اور یمنی شہدا کا خون ایک ہو گیا ہے جو مسلمان کے مسلمان کی نصرت کا سب سے اعلیٰ مظہر ہے۔دراین اثناء انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی نے بھی اس حملے کو سرخ لکیر کو عبور کرنا قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی اجلاس کو نشانہ بنانا حد سے بڑھ جانا ہے۔ اب جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور انتقام لینا ناگزیر ہو گیا ہے۔ ہم زیادہ باتیں نہیں کریں گے، بلکہ عمل کے ذریعے جواب دیں گے