اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2025 پر دستخط کر دیے، جس کے بعد یہ قانون نافذ العمل ہو گیا ہے۔ ایوانِ صدر کے اعلامیے کے مطابق یہ قانون سکیورٹی اداروں کی دہشت گردی کے خلاف صلاحیت کو مزید مضبوط بنائے گا اور اس میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا گیا ہے۔اعلامیے کے مطابق بل میں تین سالہ سن سیٹ کلاز شامل ہے تاکہ اس کی مدت محدود رہے، جبکہ قانون میں عدالتی نگرانی اور حفاظتی اقدامات بھی شامل ہیں۔ بل کے مطابق کسی شخص کو ٹھوس شواہد کے بغیر حراست میں نہیں لیا جا سکے گا، جبکہ 3 ماہ سے زائد حراست کے لیے معقول جواز لازمی قرار دیا گیا ہے۔ترمیمی بل کے تحت سیکشن 11 فور ای میں ترمیم کی گئی ہے جس کے مطابق مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کسی بھی شخص کو ملکی سلامتی، دفاع یا امن و امان کے لیے 3 ماہ تک حفاظتی حراست میں رکھ سکتی ہیں۔ اس میں اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث افراد بھی شامل ہوں گے۔ مزید یہ کہ زیر حراست شخص کے خلاف تحقیقات مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) کرے گی۔یہ قانون آئندہ تین سال کے لیے نافذ العمل ہوگا۔ چند روز قبل یہ بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ جے یو آئی (ف) کے رہنما حافظ حمد اللہ نے اس قانون کو آئین اور جمہوریت کے منہ پر طمانچہ قرار دیا تھا۔
صدر مملکت نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی
Date: