ایران کی نیم سرکاری مہر خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی ایک معروف میڈیسن کمپنی نے چھاتی اور معدے کے سرطان کے علاج کے لیے ایک جدید دوا "تدروکس” تیار کر لی ہے، جسے تحقیق کے مراحل سے گزارا گیا۔ یہ دوائی عالمی سطح پر سرطان کے علاج میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جارہی ہے۔کمپنی کے بزنس ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر علی آقاجانی نے بتایا کہ”تدروکس” ان چند منصوبوں میں شامل ہے جو ایران کو عالمی سطح پر جدیدفارماسیوٹیکل ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
لاہورمیں انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز 4 لاکھ 20 ہزار سے زائد بچوں کو قطرے پلائے گئے
تدروکس ایک جدید دوا ہے جو کینسر کے خلیات کو نشانہ بناتی ہے، جس سے دوا کے اثرات بڑھتے ہیں اور ضمنی اثرات کم ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تدروکس کے استعمال سے بیماری کے دوبارہ پھیلنے میں چھ گنا زیادہ دیر ہوجاتی ہے اور مریضوں کی زندگی کی مدت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ اس دوا کا تیسرا کلینیکل ٹرائل جلد شروع ہوگا۔آقاجانی نے بتایا کہ یہ دوا ملک میں پہلی بار تیار کی گئی ہے اور اس کی تیاری میں جدید ٹیکنالوجی اور ماہر عملہ شامل ہے۔یہ دوا کینسر کے علاج میں ایک اہم سنگ میل ہے اور مریضوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کی امید ہے۔انہوں نے بتایا کہ دوا تدروکس کی مقامی پیداوار نے علاج کے اخراجات کو 90 فیصد تک کم کردیا ہےانہوں نے کہا کہ تدروکس کی قیمت بیرونی مشابہ دوائیوں سے دس فیصد سے بھی کم ہے، جس سے مریضوں کے لیے جدید اور معیاری علاج کی رسائی آسان ہوگئی ہے۔علی آقاجانی نے امید ظاہر کی کہ مالی معاونت اور ٹیکنالوجی کی ترقی سے کینسر کے مریضوں کے لیے جدید ادویات تک رسائی میں بہتری آئے گی اور ملک میں علاج کے معیار کو بلند کرنے میں مدد ملے گی۔


