پاکستان کی جیو اسٹرٹیجک اہمیت اور خطے کے استحکام میں پاک فوج کے پیشہ ورانہ کردار کو عالمی سطح پر سراہتے ہوئے ترکیہ نے پاکستان میں جدید جنگی ڈرونز کی اسمبلنگ فیکٹری قائم کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
عالمی مالیاتی جریدے بلومبرگ کے مطابق ترکیہ دفاعی صنعت کے فروغ اور برآمدات میں وسعت کے لیے پاکستان کے ساتھ بڑے پیمانے پر تکنیکی تعاون کا خواہاں ہے۔ منصوبے کے تحت ترکیہ اپنی خفیہ جنگی صلاحیتوں کے حامل طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے ڈرونز کو پاکستان میں اسمبل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ترکیہ کی دفاعی برآمدات رواں سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران 30 فیصد اضافے کے ساتھ 7.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جس کے بعد خطے میں مشترکہ دفاعی منصوبوں کی رفتار مزید تیز ہوئی ہے۔
ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون پہلے سے بھی مضبوط ہے۔ مشترکہ پیداواری معاہدے کے تحت ترکیہ پاکستانی بحریہ کے لیے جدید جنگی بحری جہاز تیار کر رہا ہے، جبکہ ترکیہ نے پاکستان کی ففتھ جینیریشن لڑاکا طیارے کان (Kaan) پروگرام میں شمولیت کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔
ترک ایرو اسپیس انڈسٹریز 2019 میں پاکستان میں اپنا پہلا دفتر قائم کر چکی ہے۔ 2021 اور 2022 میں ترک ادارے نے پاکستان کے نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنسی کمیشن (NESCOM) کے ساتھ جدید اینکا ڈرونز کے پرزہ جات کی مشترکہ پیداوار کے معاہدے بھی کیے۔ اینکا ڈرون 30 ہزار فٹ کی بلندی پر 24 گھنٹے سے زائد مسلسل پرواز اور 250 کلوگرام تک وزن لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ ترکیہ 1.5 ارب ڈالر مالیت کے معاہدے کے تحت پاکستان کو 30 T-129 ATAK ہیلی کاپٹرز فراہم کرنے پر بھی کام کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں ڈرون اسمبلنگ فیکٹری کا قیام نہ صرف پاک ترک دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ پاکستان کو خطے میں جدید دفاعی پیداواری مرکز کے طور پر فروغ دینے کا ذریعہ بھی بنے گا۔ یہ منصوبہ پاک فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیت، معیار اور قابلِ اعتماد شراکت داری کا عالمی اعتراف ہے۔


