ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ عوامی املاک پر مجرمانہ حملوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا اور ٹرمپ کا پیغام غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی کی طرح ایرانی عوام اپنے داخلی معاملات میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو مسترد کریں گے، جبکہ ایران کی مسلح افواج مکمل طور پر الرٹ ہیں اور ملکی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں جانتی ہیں کہ کہاں اور کیسے جواب دینا ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ زرِ مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ سے متاثرہ افراد کا احتجاج کرنا ان کا جائز حق ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے جاری ہیں جن کے دوران اب تک 9 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ بدامنی پھیلانے کے الزام میں 44 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان لفظی جنگ اس وقت شدت اختیار کر گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران میں پرامن مظاہرین پر تشدد کیا گیا تو امریکا ان کے دفاع کے لیے مداخلت کرے گا۔
امریکی دھمکی پر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی نے کہا کہ ایران کے داخلی احتجاجی معاملات میں امریکی مداخلت خطے میں افراتفری پھیلانے کے مترادف ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی سلامتی کی جانب بڑھنے والا ہر مداخلت پسند ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔


