ایرانی امورِ خارجہ کے ماہرسید مصطفیٰ خوش چشم نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے اندر وینزویلا طرز کی اغوا کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔
ان کے مطابق اس مقصد کے لیے دوہری شہریت رکھنے والے افراد اور مقامی معاون ٹیموں کو بطور کور استعمال کیا جانا تھا، تاہم ایرانی انٹیلی جنس نے اس منصوبے کا سراغ لگا لیا، پوری معاون نیٹ ورک کو گرفتار کر لیا اور غیر ملکی اسپیشل فورسز کو ایران میں داخل ہونے سے روک دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والے یہ افراد کافی عرصہ پہلے ایران آ چکے تھے اور تہران سے تقریباً 100 سے 200 کلومیٹر دور کسی مقام پر تعینات تھے۔
ان میں سے ایک شخص جرمنی سے آیا ہوا ایک پیشہ ور بڑھئی تھا، جس کے پاس اعلیٰ معیار کا جدید سامان موجود تھا۔ بظاہر وہ فرنیچر سازی اور لکڑی کے کام کے کور کے تحت کام کر رہا تھا۔ ان افراد نے لکڑی کے کئی خفیہ خانے تیار کیے تھے جو اغوا کے لیے استعمال ہونے تھے۔ کل تین ایسے خانے بنائے گئے تھے۔ یہ تمام افراد اغوا کی کارروائی کے لیے معاون ٹیم کا کردار ادا کرنے والے تھے۔
منصوبہ یہ تھا کہ اسرائیلی اور امریکی اسپیشل آپریشنز یونٹس کی کئی ٹیموں کو بیرونِ ملک سے فضائی راستے کے ذریعے ایران میں داخل کیا جائے۔
لیکن ایرانی سکیورٹی اداروں کی جانب سے سخت کارروائی کے باعث ان کے لیے صورتحال انتہائی خراب ہو گئی، جس کے نتیجے میں پوری معاون ٹیم کو ان کے تمام سازوسامان سمیت گرفتار کر لیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں جو کچھ کیا گیا، وہ بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا، جسے “شاک اینڈ پیرالائز” آپریشن کہا جاتا ہے، چند مقامات پر حملے کر کے خوف و ہلچل پیدا کرنا، صورتحال کو مفلوج کرنا، پھر داخل ہو کر اغوا کرنا اور نکل جانا۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی انہوں نے چند جگہوں پر حملے کیے، خوف پیدا کیا اور پھر مادورو کو اٹھا کر لے گئے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ بھی یہی نہیں کرنا چاہتے تھے؟ وہ کرنا چاہتے تھے، لیکن وہ کر نہیں سکے۔ان کے بقول وہ اب یہ کر ہی نہیں سکتے، اور یہ ان کے اسٹریٹجک فریم ورک کا حصہ بھی اب نہیں رہا۔


