بھارت کو ایک بار پھر عالمی سطح پر شدید سبکی اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں بھارتی ایوی ایشن کی نااہلی اور غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل کھل کر دنیا کے سامنے آ گیا ہے۔
نااہل اور غیر پیشہ ور بھارتی پائلٹس کی صلاحیتوں پر سوالات پہلے ہی عالمی سطح پر اٹھائے جا رہے تھے، تاہم پے درپے فضائی حادثات کے بعد اب ایک اور شرمناک واقعے نے بھارتی سول ایوی ایشن نظام کی کمزوریوں کی قلعی کھول دی ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز اور آذربائیجان کے جریدے نیوز اے زی کے مطابق ایئر انڈیا کی ایک پرواز کو کینیڈا کے ہوائی اڈے پر اس وقت روک دیا گیا جب پائلٹ نشے کی حالت میں پایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ٹیک آف سے قبل نشے کے زیرِ اثر ہونے پر بھارتی پائلٹ کو فوری طور پر پرواز سے ہٹا دیا گیا، جس کے بعد کینیڈا کے ٹرانسپورٹ ریگولیٹر نے ایئر انڈیا سے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق پائلٹ کا میڈیکل ٹیسٹ کیا گیا جو ناکام رہا، جس پر کینیڈین حکام نے سنگین حفاظتی خدشات کا اظہار کیا۔
ٹرانسپورٹ کینیڈا نے ایئر انڈیا کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ 26 جنوری تک تحقیقات کے نتائج جمع کرائے۔ اسی دوران بھارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن نے بھی ایئر انڈیا کے چار پائلٹس کو وارننگ نوٹس جاری کیے ہیں، جن پر تکنیکی مسائل کے باوجود بوئنگ 787 طیارے کو پرواز کے لیے قبول کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ماہ قبل 12 جون کو ایئر انڈیا کا ایک طیارہ احمد آباد کے قریب ایوی ایشن کی غفلت کے باعث گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں 274 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ رپورٹس میں انجن کی خرابی، ایئر ٹریفک کنٹرول کی لاپرواہی اور بروقت ہنگامی ردعمل کی کمی کی نشاندہی کی گئی تھی۔
عالمی ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بھارت میں فضائی تحفظ کے مسائل اب محض انفرادی واقعات نہیں رہے بلکہ یہ ایک سنگین انتظامی ناکامی کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار پیش آنے والے حادثات، پائلٹس پر الزامات اور ریگولیٹری اداروں کی جانب سے وارننگز اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارت کا سول ایوی ایشن نگرانی کا نظام کمزور ہو چکا ہے، جبکہ بھارتی ایوی ایشن کے طیاروں اور پائلٹس کی غیر اخلاقی اور غیر پیشہ ورانہ روش انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرات کا باعث بنتی جا رہی ہے۔


