تحریر عارف کاظمی
وینزویلا پر امریکی حملہ اور ملک کے منتخب صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کا اغوا نہ صرف لاطینی امریکا کی سیاست میں ایک ہلچل خیز واقعہ ہے بلکہ یہ اقدام عالمی امن، بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری اور طاقت کے عالمی توازن کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب دنیا پہلے ہی یوکرین، غزہ، مشرقِ وسطیٰ، تائیوان اور افریقہ کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات کے باعث شدید عدم استحکام کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں کسی خودمختار ملک پر براہِ راست فوجی حملہ اور اس کے سربراہِ مملکت کو زبردستی گرفتار کرنا عالمی نظام کے لیے ایک خطرناک مثال بن سکتا ہے، جس کے اثرات وقتی نہیں بلکہ طویل المدت اور دور رس ہوں گے۔

بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں میں ریاستی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت کسی بھی ملک کو دوسرے ملک کے اندر فوجی کارروائی کا حق صرف اسی صورت میں حاصل ہوتا ہے جب اسے سلامتی کونسل کی منظوری حاصل ہو یا وہ اپنی فوری دفاعی ضرورت کے تحت ایسا کرے۔ وینزویلا کے معاملے میں،امریکی حملہ اور صدر کی گرفتاری یکطرفہ فیصلہ تھا جسے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔
اس اقدام سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں بین الاقوامی قوانین کو صرف کمزور ممالک پر لاگو کرنے کا ذریعہ سمجھتی ہیں، جبکہ خود ان قوانین کی پابندی کو ضروری نہیں سمجھتیں۔ یہی دوہرا معیار عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

وینزویلا لاطینی امریکا کا ایک اہم ملک ہے جو قدرتی وسائل، خصوصاً تیل کے ذخائر کے حوالے سے دنیا میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان کہ اقتدار کی منتقلی تک وینزویلا کو امریکا چلائے گا اور امریکی تیل کمپنیاں وہاں جائیں گی، اس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ اس فوجی کارروائی کے پسِ پردہ جمہوریت یا انسانی حقوق سے زیادہ معاشی اور اسٹریٹجک مفادات کارفرما ہیں۔
اگر عالمی برادری یہ پیغام قبول کر لیتی ہے کہ قدرتی وسائل سے مالا مال ممالک پر طاقت کے زور پر قبضہ کیا جا سکتا ہے، تو یہ عمل ایک نئی نوآبادیاتی سوچ کو جنم دے گا، جس سے دنیا میں مزید تنازعات، بغاوتیں اور جنگیں جنم لیں گی۔

عالمی امن صرف جنگ کے نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ انصاف، مساوات اور قانون کی بالادستی سے جڑا ہوا تصور ہے۔ جب کسی ملک کے عوام کا منتخب کردہ صدر بیرونی طاقت کے ہاتھوں گرفتار ہو جائے اور اس عمل کو قانونی یا اخلاقی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی جائے، تو دنیا بھر کے کمزور اور ترقی پذیر ممالک میں خوف اور بے یقینی کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ انہیں یہ خدشہ لاحق ہو جاتا ہے کہ اگر ان کی پالیسیاں کسی بڑی طاقت کے مفادات سے متصادم ہوئیں تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جا سکتا ہے۔ یہ خوف عالمی سطح پر عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے، جو کسی بھی پائیدار امن کے لیے زہرِ قاتل ہے۔
اس واقعے کے عالمی اثرات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ بڑی طاقتوں کے درمیان محاذ آرائی کو مزید شدید کر سکتا ہے۔ روس، چین اور ایران جیسے ممالک پہلے ہی امریکا کی عالمی پالیسیوں پر تنقید کرتے آئے ہیں۔ وینزویلا پر حملہ دیگر ممالک کو یہ جواز فراہم کر سکتا ہے کہ وہ بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے طاقت کے استعمال کو درست قرار دیں۔

اس طرح دنیا ایک بار پھر سرد جنگ جیسے ماحول کی طرف بڑھ سکتی ہے، جہاں طاقت کا استعمال معمول بن جائے گا اور سفارت کاری کمزور پڑ جائے گی۔ عالمی امن کا دارومدار اس بات پر ہے کہ تنازعات کو مذاکرات اور بین الاقوامی فورمز کے ذریعے حل کیا جائے، نہ کہ بمباری اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے۔

لاطینی امریکا کے تناظر میں دیکھا جائے تو وینزویلا پر امریکی حملہ اس خطے میں امریکا مخالف جذبات کو مزید بھڑکا سکتا ہے۔ ماضی میں بھی امریکا کی مداخلتوں نے اس خطے میں سیاسی عدم استحکام، فوجی آمریتوں اور خانہ جنگیوں کو جنم دیا۔ اگر ایک بار پھر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ امریکا لاطینی ممالک کی خودمختاری کو نظرانداز کر رہا ہے، تو اس کے نتیجے میں علاقائی اتحاد مضبوط ہو سکتے ہیں جو امریکا کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس طرح عالمی سیاست مزید تقسیم اور کشیدگی کا شکار ہو سکتی ہے۔
انسانی حقوق کے زاویے سے بھی یہ واقعہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر کسی ملک کے صدر اور ان کی اہلیہ کو ان کے گھر سے اغوا کیا جاتا ہے تو یہ عمل نہ صرف اس ملک کے آئین بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ امریکا خود کو دنیا میں انسانی حقوق کا علمبردار قرار دیتا ہے، مگر اس طرح کے اقدامات اس دعوے کو کمزور کر دیتے ہیں۔ جب انسانی حقوق کو سیاسی مفادات کے تابع کر دیا جائے تو عالمی سطح پر ان کی اخلاقی حیثیت بھی متاثر ہوتی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دیگر ممالک بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اپنے مفادات کے تحت جائز قرار دینے لگتے ہیں۔

میڈیا اور عالمی رائے عامہ کا کردار بھی اس تناظر میں نہایت اہم ہے۔ اگر عالمی میڈیا اس واقعے کو یکطرفہ انداز میں پیش کرتا ہے اور طاقتور ملک کے بیانیے کو بغیر سوال کے قبول کر لیتا ہے تو یہ عالمی امن کے لیے ایک اور خطرناک رجحان ہوگا۔ آزاد اور ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے کہ ایسے اقدامات کا غیرجانبدارانہ تجزیہ کیا جائے اور یہ سوال اٹھایا جائے کہ آیا طاقت کا یہ استعمال واقعی عالمی امن کے حق میں ہے یا نہیں۔ خاموشی یا جانبداری بالآخر ظلم کو تقویت دیتی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وینزویلا پر امریکی حملہ اور صدر و اہلیہ کا اغوا محض ایک ملک کا اندرونی یا علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ یہ عالمی نظام کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک اہم موڑ ہے۔ اگر عالمی برادری نے اس اقدام پر سنجیدہ غور نہ کیا اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا نہ کیا تو دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو سکتی ہے جہاں طاقت ہی قانون بن جائے گی۔ ایسی دنیا میں امن محض ایک خواب بن کر رہ جائے گا، کیونکہ حقیقی امن انصاف، خودمختاری اور باہمی احترام کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا۔ وینزویلا کا واقعہ اس بات کا امتحان ہے کہ آیا دنیا طاقت کے قانون کو قبول کرتی ہے یا قانون کی طاقت کو، اور یہی فیصلہ آنے والے وقتوں میں عالمی امن کی سمت متعین کرے گا۔
(مضمون نگار پی ایچ ڈی اسکالر اور عالمی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں)


