گلگت کی دفن شدہ قدیم لائبریری کی کہانی۔

Date:

تحریر اشفاق احمد ایڈووکیٹ

گلگت بلتستان میں آج کے جدید دور میں بھی میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز موجود نہیں ہیں۔ یہاں کے طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے پاکستان کے مختلف شہروں کا رخ کرتے ہیں اور ہر سال ہزاروں طالب علم اس مقصد کے لیے علاقے سے باہر جاتے ہیں۔

اگر ان طلبہ سے پوچھا جائے کہ آیا ان کے دادا یا دادی تعلیم یافتہ تھے تو سو میں سے ننانوے فیصد کا جواب نفی میں ہوگا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ماضی قریب میں اس خطے میں تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر تھے۔

ایسی صورتحال میں گلگت کے قریبی گاؤں میں ایک انتہائی قدیم لائبریری/ مخطوطات کی دریافت نہایت حیرت انگیز اور غیر معمولی واقعہ ہے۔ درحقیقت یہ دریافت گلگت بلتستان کی قدیم تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔

1931ء میں نوپور، گلگت سے دنیا کے قدیم ترین بدھ مت کے مخطوطات دریافت ہوئے، جس سے گلگت عالمی سطح پر ایک اہم آثارِ قدیمہ کا مرکز بن گیا۔

یہ لائبریری برطانوی نوآبادیاتی دور میں اس وقت منظرِ عام پر آئی جب گلگت ایجنسی کو مہاراجہ ہری سنگھ نے برطانوی حکومت کو لیز پر دے رکھا تھا۔1938ء میں مزید مخطوطات بھی ملے، جن پر آج تک دنیا بھر کے محققین کام کر رہے ہیں۔

1935ء کے گلگت لیز معاہدے کے تحت گلگت کی سول اور فوجی انتظامیہ ساٹھ سال کے لیے برطانوی حکومت کے حوالے کی گئی۔ غالباً انہی اختیارات کی منتقلی کے نتیجے میں ایمِت سے ملا ہوا قدیم رائٹن (پینے کا برتن)، جس کا ذکر سر اوریل اسٹائن نے کیا ہے، آکسفورڈ کے اشمولین میوزیم منتقل کر دیا گیا۔

اسی طرح اس لائبریری سے دریافت ہونے والے قدیم مخطوطات آج بھارت، امریکہ، برطانیہ اور پاکستان کے مختلف عجائب گھروں میں محفوظ ہیں، جبکہ گلگت بلتستان کے عوام کی اکثریت اس حقیقت سے لاعلم ہے کہ ان کی اپنی تاریخ کس قدر زرخیز اور علمی رہی ہے۔

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ گلگت کے مخطوطات کی دریافت اور ان پر ہونے والی تحقیق نے گلگت بلتستان کی قدیم تاریخ، بالخصوص بدھ مت کے مطالعے میں غیر معمولی اہمیت حاصل کر لی ہے۔

اس ضمن میں باقاعدہ سائنسی تحقیق کا آغاز 1979ء کے اواخر میں ہوا، جسے 1980ء کے موسمِ گرما میں جرمن ریسرچ فاؤنڈیشن کی گرانٹ کے ذریعے مزید وسعت ملی۔

اسلام آباد میں جرمن سفارت خانے کی مؤثر معاونت اور پاکستانی حکام کے تعاون سے پروفیسر احمد حسن دانی اور جرمن محققین کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں “پاک۔جرمن مطالعاتی گروپ برائے بشریاتی تحقیق شمالی علاقہ جات” قائم کیا گیا۔

اس گروپ کے تحت 1980ء میں متعدد جرمن ماہرین شمالی پاکستان آئے اور ہنزہ، گلگت اور بلتستان میں بشریات، لسانیات اور آثارِ قدیمہ سے متعلق مختلف منصوبوں پر کام کیا گیا۔ جرمن آثارِ قدیمہ کے ادارے کی ایک ٹیم نے ہنزہ۔ہندوکش کے علاقے میں موجود چٹانی نقش و نگار اور کتبوں کو مکمل طور پر ریکارڈ کیا، جبکہ پاکستانی جانب سے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوک ہیریٹیج اور محکمہ آثارِ قدیمہ کے نمائندے بھی اس عمل میں شریک رہے۔

ابتدائی رپورٹس سے یہ واضح ہو گیا تھا کہ گلگت کے یہ مخطوطات بدھ مت کے مذہبی متون اور مقامی تاریخ کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، تاہم یہ مواد مختلف مقامات پر بکھرا ہوا اور متعدد اشاعتوں میں منتشر حالت میں موجود تھا، جس کے باعث ان کی جامع تشریح ایک مشکل مرحلہ ثابت ہوئی۔

اس پیچیدہ تحقیقی کام کو جرمنی کے پروفیسر ہینیوبر نے غیر معمولی محنت اور جانفشانی کے ساتھ آگے بڑھایا۔ انہوں نے مخطوطات اور کتبوں کی مدد سے قدیم ریاستِ بلور کے حکمران پٹولا شاہی خاندان کے بادشاہوں، ان کی بیویوں، اعلیٰ عہدیداروں اور کاتبوں کے ناموں کی شناخت کی۔

چین کے قدیم تانک بادشاہت کے ریکارڈ میں بھی لیٹل بلور اور اس کے بادشاہوں کا ذکر موجود ہے۔
جرمنی کے ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں جنوبی ایشیا انسٹیٹوٹ میں شعبہ ثقافتی اور سماجی بشریات کے سربراہ کارل جیٹمار اپنی کتاب
Beyond the Gorges of Indus
میں لکھتے ہیں کہ
مختلف کتبوں کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ گلگت، ہاتون اور دنیور کے آثار ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ تمام شواہد ریاستِ بلور پر تبتی یلغار اور چینی مداخلت سے پہلے کے دور کے ہیں۔

عام طور پر ان مخطوطات کو “نوپور کے مخطوطات” کہا جاتا ہے، حالانکہ نوپور دراصل گلگت ہی کا ایک قدیم علاقہ ہے۔ روایت کے مطابق یہاں قدیم شاہی محل اور بدھ مت کے اسٹوپا موجود تھے جن کے کھنڈرات آج بھی موجود ہیں ۔

مقامی لوگوں کے مطابق نوپور کے چراگاہی علاقے میں ایک چرواہے نے مٹی کھودتے ہوئے پہلے سکے نما مٹی کے ٹکڑے اور بعد ازاں لکڑی کے شہتیر دریافت کیے۔ مزید کھدائی پر ایک لکڑی کے صندوق سے برچ کی چھال پر لکھے ہوئے مخطوطات برآمد ہوئے، جنہیں ابتدا میں عام کتابیں سمجھا گیا۔ بعد ازاں یہ صندوق حکام کے حوالے کر دیا گیا اور مزید کھدائی پر پابندی عائد کر دی گئی۔

1931ء میں معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ سر اوریل اسٹائن نے ان مخطوطات کا ذکر کیا اور کچھ اوراق مقامی لوگوں سے حاصل کر کے انہیں ضائع ہونے سے بچایا۔ بعد ازاں 1938ء میں سرکاری سطح پر باقاعدہ کھدائی کی گئی، جس کی رپورٹ 1939ء میں شائع ہوئی۔ اس کھدائی کے دوران ایک بڑے اسٹوپا کی ساخت سامنے آئی جو مضبوط لکڑی کے ڈھانچے اور تین منزلہ تعمیر پر مشتمل تھی۔

نوپور سے ملنے والے ان مخطوطات کے متعلق دی نیوز انٹرنیشنل اخبار میں لکھے گئے اپنے ایک مضمون بعنوان
Inside the hidden chamber
میں ڈاکٹر اجلال حسین پور لکھتے ہیں کہ "نوپور سے ملنے والے تقریباً 60 مخطوطات اور 17 اوادان( بدھ مت کی اخلاقی اور تمثیلی کہانیاں ) جو بدھ مت کے مطالعے میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ برصغیر میں محفوظ رہنے والے سب سے قدیم مذہبی متون ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تحریریں پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی میں مقامی بدھ مت کے پیروکاروں نے مرتب کیں۔

زیادہ تر مخطوطات برچ کی چھال پر لکھے گئے تھے، جو آسانی سے خراب نہیں ہوتی، جبکہ علاقے کی ٹھنڈی آب و ہوا نے بھی انہیں صدیوں تک محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان مخطوطات میں مذہب، عبادات، فلسفہ، خانقاہی نظم و ضبط، لوک کہانیاں، طب اور کھانا پکانے جیسے موضوعات شامل ہیں۔ ان میں بدھ مت کے اہم سوتر شامل ہیں، جن میں سمادھی راج سوتر، لوٹس سوتر اور بھیشج گرو سوتر قابلِ ذکر ہیں۔ لوٹس سوتر گلگت کے بدھ مت کے ماننے والوں میں خاص طور پر مقدس سمجھا جاتا تھا۔”

کتابوں کے علاوہ اس اسٹوپا سے ایک نہایت اہم شے بھی برآمد ہوئی، جس میں ممکنہ طور پر وہ کانسی کا مجسمہ شامل ہے جسے پال نے شائع کیا ہے۔ اس مجسمے پر کندہ عبارت میں پٹولا شاہی یا بلور شاہی خاندان کے بادشاہ نندی وکرما دتیہ کا ذکر ملتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مجسمہ ان کو عطیے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ یہ مجسمہ مہاراجہ کے دورِ حکومت میں کشمیر منتقل کیا گیا۔

ڈاکٹر این_ پی چکراورتی کے مطابق بدھ مت کے مخطوطات کے اختتامی نوٹ میں مذکور ایک مشہور بادشاہ کا نام ہاتون کے کتبے میں بھی آتا ہے جس کا نام Jayamangala Vikramaditya Nandi ہے۔ہاتون راک انسکرپشن کا مطالعہ سب سے پہلے ڈاکٹر چکراورتی نے کیا تھا۔

معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر احمد حسن دانی کی تحقیق کے مطابق، دنیور کا یہ کتبہ جسے شینا زبان میں “لیکِتو گیری” یا “قدیم تحریر والا پتھر” کہا جاتا ہے دراصل بلور شاہی حکمرانوں کے سلسلے سے تعلق رکھتا ہے جس کا ذکر ہاتون کتبے میں ملتا ہے، جو شہزادے (کمار امتیہ) نے کندہ کروایا تھا۔ اس میں حکمران جے منگل وکرم آدتیہ نندی (وکرم آدتیہ خاندان) کو پٹولا شاہی، شہنشاہی اور پرم بھٹارک جیسے شاہی القابات عطا کیے گئے ہیں۔ اس حکمران کے دو دیگر جانشینوں کے نام بھی درج ہیں۔

یہ تحریر شاید دنیور کی سب سے اہم دریافت ہے، چونکہ”ہاتون راک انسکرپشن“ پر میں تفصیلی مضمون لکھ چکا ہوں اس لیے یہاں اس کی مزید وضاحت مناسب نہیں۔

ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ نوپور میں اس کتب خانے کو دفن کیے جانے کا تعلق آٹھویں صدی کے وسط کے کسی فوری سیاسی بحران سے جوڑنا مشکل ہے۔ اگر واقعی مذہبی اشیاء کو چھپانے کی ضرورت پیش آتی تو عمارت بنانے والے اتنی پیچیدہ اور مضبوط لکڑی کی ساخت اختیار نہ کرتے۔

بقول کارل جٹیمار، یہ سوال اب بھی تحقیق طلب ہے کہ ماہرینِ تاریخ کی جانب سے لکڑی کے کتابی سرورقوں کو دی جانے والی مختلف تاریخیں آیا عمارت کی تعمیر کے بہت بعد کی نشاندہی کرتی ہیں یا محض اس بڑے “ذخیرہ نما اسٹوپا” کو آخری بار بند کیے جانے کے وقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ بقول پروفیسر کارل جٹیمار اس کھدائی کے باوجود کئی اہم سوالات آج بھی تشنہ ہیں۔ سب سے بڑا معمہ یہ ہے کہ اگر بدھ مت کی سرگرمیاں جاری تھیں تو ایک مکمل لائبریری کو اسٹوپا میں دفن کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا یہ تبتی حملوں کے خوف کا نتیجہ تھا یا کسی مخصوص مذہبی روایت کا حصہ؟

اگرچہ کئی سوالات ابھی باقی ہیں، مگر یہ مخطوطات آج بھی محققین کو نئی تحقیق اور نئی تعبیرات کی دعوت دے رہے ہیں۔

یہ بات بہرحال واضح ہے کہ گلگت کے مخطوطات محض قدیم دستاویزات نہیں بلکہ گلگت بلتستان کی تہذیبی، مذہبی اور سیاسی تاریخ کی زندہ شہادت ہیں۔ ان کی دریافت اور تحقیق نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ خطہ صدیوں تک علم و ثقافت کا ایک اہم مرکز رہا۔
مشہور اطالوی محقق اور مشرقی مذاہب کے ماہر پروفیسر جوسیپے توچی نے کہا تھا:

“گلگت میں بدھ مت کے مخطوطات کی دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ گلگت اور ہنزہ میں علم رکھنے والی برادریاں موجود تھیں

لیکن قابل افسوس بات یہ ہے کہ گلگت کی اس نایاب علم کے ذخیرہ کے بارے میں نہ تو گلگت بلتستان کے عوام کو علم ہے نہ ہی اس علم سے انہوں نے استفادہ حاصل کیا نہ ہی اس علم میں اضافہ کیا اس کی بنیادی وجہ اس خطے میں طویل عرصے سے علم کی روشنی کا نہ ہونا ہے بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اس قدیم لائبریری کے دفن ہونے کے ساتھ ایک طویل عرصہ تک اس خطے میں جہالت کا راج رہا اس لئے گلگت کی قدیم تاریخ پر جتنا کام ہوا ہے وہ نوآبادیاتی دور میں باہر کے لوگوں نے کیا ہے جبکہ مقامی لوگ اج بھی اپنی تاریخ سے نابلد ہیں ۔

لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ قراقرم یونیورسٹی میں تاریخ، آثار قدیمہ اور یہاں کی مقامی ثقافتوں و زبانوں کا ایک شعبہ قائم کیا جائے تو اس خطے کی آنے والی نسلوں کو اپنے اس ورثے کا علم ہوجائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

کسی کی سیاست اور ذات پاکستان سے بڑھ کر نہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل...

سپریم لیڈر عوام اور ملک کے ساتھ کھڑے ہیں،ایرانی سفیر

اسلام آباد: پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم...

ٹرمپ کی دھمکیوں پر قسم توڑتا ہوں ، دوبارہ ہتھیار اٹھاوں گا،صدرکولمبیا

کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے امریکی صدر ڈونلڈ...

یونان کی فضا عالمی فضائی ٹریفک سےخالی کیوں ہوئی؟بڑی خبر

یونان بھر میں آج فضائی سفر شدید متاثر ہو...