چین نے پیر کے روز جنوبی جزیرہ صوبے ہائی نان میں لانگ مارچ-12 کیریئر راکٹ کامیابی سے لانچ کر دیا، جس کے ذریعے انٹرنیٹ سیٹلائٹس کے ایک نئے گروپ کو خلا میں بھیجا گیا۔

راکٹ نے سہ پہر 3 بج کر 48 منٹ پر ہائی نان کمرشل اسپیس کرافٹ لانچ سائٹ سے پرواز کی۔ لانچ کیے گئے پے لوڈ، جو کم مدار میں گردش کرنے والے انٹرنیٹ سیٹلائٹس کے 19ویں گروپ پر مشتمل تھے، کامیابی کے ساتھ مقررہ مدار میں داخل ہو گئے۔
یہ رواں سال چین کے انٹرنیٹ سیٹلائٹ کنسٹیلیشن کے لیے کم مدار سیٹلائٹس کی دوسری لانچ تھی۔ اس سے قبل چھ دن پہلے 18واں گروپ بھی اسی لانچ سائٹ سے خلا میں بھیجا گیا تھا۔

چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026 تا 2030) کی تیاری سے متعلق سفارشات میں ایرو اسپیس کے شعبے کو ملکی صنعتی نظام اور حقیقی معیشت کا ایک اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔ کمرشل ایرو اسپیس کمپنیاں، جو اعلیٰ کارکردگی، مارکیٹ پر مبنی تکنیکی جدت اور بڑے پیمانے پر پیداوار کی صلاحیت رکھتی ہیں، چین کی خلائی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔
پیر کے روز لانچ کیے گئے سیٹلائٹس بیجنگ میں قائم کمرشل کمپنی گلیکسی اسپیس نے تیار کیے ہیں، جو حالیہ برسوں میں اسٹارلنک طرز کے سیٹلائٹ نیٹ ورکس کی تعمیر میں حصہ لینے والی چینی کمپنیوں میں شامل ہے۔ یہ دوسری بار ہے کہ اس کمپنی نے اس نوعیت کے خلائی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے پر کام کیا ہے۔
اس سے قبل گلیکسی اسپیس کی جانب سے تیار کردہ کم مدار انٹرنیٹ سیٹلائٹس کا ساتواں گروپ 4 اگست 2025 کو کامیابی سے خلا میں بھیجا گیا تھا۔

گلیکسی اسپیس کے چیف ماڈل ڈیزائنر ہو ژاؤ کے مطابق پیر کو لانچ کیے گئے سیٹلائٹس کمپنی کی تیار کردہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیق و ترقی کے دوران پہلی مرتبہ مکمل ڈیجیٹل عمل کو یکجا کیا گیا، جس سے پیداواری صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی۔
ان کا کہنا تھا کہ سیٹلائٹس کی بڑے پیمانے پر پیداوار کی صلاحیت کو نئے خلائی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلیکسی اسپیس کی اسمارٹ سیٹلائٹ فیکٹری نے تحقیق و ترقی، پرزہ جات کی تیاری، مکمل سیٹلائٹ کی اسمبلنگ اور جانچ تک ایک جامع صنعتی نظام قائم کر لیا ہے۔

اسمارٹ فون اور سیٹلائٹ کے براہِ راست رابطے کی ٹیکنالوجی کے لیے بھی کمپنی نے اینٹینا، سولر ونگز اور سیٹلائٹ بیس اسٹیشنز پر مشتمل ایک مکمل فریم ورک تیار کیا ہے، جبکہ اس ٹیکنالوجی سے لیس 40 سے زائد سیٹلائٹس پہلے ہی کامیابی سے لانچ کیے جا چکے ہیں۔

بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ایرو اسپیس پالیسی اینڈ لا انسٹی ٹیوٹ کے نائب صدر یانگ کوان کے مطابق کم مدار سیٹلائٹ کنسٹیلیشن نہ صرف اسمارٹ فون اور سیٹلائٹ کے براہِ راست رابطے جیسے نئے اطلاقی شعبوں کی بنیاد ہیں بلکہ مستقبل کے مربوط 6جی اسپیس-گراؤنڈ انفارمیشن نیٹ ورک کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ گلیکسی اسپیس جیسی کمرشل ایرو اسپیس کمپنیاں لانچ کے اخراجات کم کر رہی ہیں، ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار تیز کر رہی ہیں اور چین کی نئی خلائی معیشت کے فروغ میں مسلسل بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہی ہیں۔


