ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ڈیووس اکنامک فورم میں کی شرکت کی دعوت منسوخ کیے جانے پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔
اپنے ایکس پیغام میں وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ڈیووس اجلاس کے لیے میرا دعوت نامہ اسرائیل اور امریکہ میں سرگرم صیہونی حکومت ایجنٹوں اور حامیوں کے سیاسی دباؤ میں کیا کیا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے حالیہ پرتشدد واقعات کے حوالے سے یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ہم موساد کی کھلی حمایت سے بہرہ مند مسلح دہشت گردوں اور داعش کی طرح انجام پانے والے قتل کے عام کے مقابلے میں اپنے عوام کا دفاع کرنے پر مجبور تھے۔
سید عباس عراقچی نے مزید لکھا کہ افسوس کا مقام ہے کہ اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی اور 71 ہزار سے زیادہ بے گناہوں کا اجتماعی قتل بھی ڈیووس اکنامک فورم میں اسرائيلی حکام کی شرکت روکے جانے کا سبب نہیں بنا۔
ہرتزوک نے تو جنوری 2024 مین بھی ڈیووس چکر لگایا حالانکہ سوئزرلینڈ میں اسے غزہ کی نسل کشی کے حوالے سے مجرمانہ الزامات کا بھی سامنا تھا۔


