ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے صدائے ایران جریدے میں شایع شدہ اپنے مضمون میں ایران پر مسلط کردہ 12 روزہ جنگ اور 8 سے 10 جنوری 2026 کے درمیان ایران میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے قانونی اور بین الاقوامی پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔
اس مضمون میں آیا ہے کہ تمام شواہد اور ثبوت اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ایران میں اقتصادی مطالبات پر مبنی پرامن مظاہروں کو پرتشدد بنانے اور اس کے بعد کی دہشت گردی میں امریکی حکام نے اپنے بیانات اور اقدامات کے ذریعے براہ راست کردار ادا کیا ہے۔
وزیر خارجہ نے لکھا ہے کہ بین الاقوامی اصولوں اور قوانین اور ٹھوس دستاویزات کے مطابق، ان حرکتوں کی مکمل ذمہ داری امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
ڈاکٹر سید عباس عراقچی نے بتایا ہے کہ وزارت خارجہ اس قانونی کیس کی پیروی ملک اور بین الاقوامی اداروں میں ضرور کرے گی اور تمام قانونی گنجائشوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایرانی عوام کے مفادات کا تحفظ اور ان دہشت گردانہ حرکتوں کے ذمہ داروں اور حامیوں کو جوابدہ کرے گی۔


