چین کی مجموعی بجلی کھپت سال 2025 کے دوران 10.4 کھرب کلو واٹ آور تک پہنچ گئی ہے، جس کے ساتھ ہی چین دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے بجلی کے استعمال میں 10 کھرب کلو واٹ آور کی حد عبور کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بجلی کی طلب میں یہ غیر معمولی اضافہ معیشت میں آنے والی گہری ساختی تبدیلیوں کا عکاس ہے، جس کی بڑی وجوہات میں ہائی اینڈ مینوفیکچرنگ کا فروغ، الیکٹرک گاڑیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی پیداوار، اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) و ڈیٹا سینٹرز کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس ریکارڈ طلب کو پورا کرنے میں گرین یا ماحول دوست بجلی نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ چین اس وقت دنیا کا سب سے بڑا صاف توانائی کا نظام قائم کرچکا ہے، جہاں مجموعی بجلی کا ایک تہائی سے زائد حصہ قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع سے پیدا کیا جا رہا ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 10 کھرب کلو واٹ آور کی سطح عبور کرنا نہ صرف چین کی بجلی کھپت کے وسیع پیمانے کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک تیزی سے ایک زیادہ صاف، زیادہ برقی اور زیادہ مضبوط توانائی نظام کی جانب بڑھ رہا ہے۔


