ایران میں حالیہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے دوران وسیع پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق ان پرتشدد واقعات میں شہری زندگی کے اہم اداروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ذرائع کے مطابق ہونے والے نقصانات کی تفصیل کچھ یوں ہے305 ایمبولینسوں اور بسوں کو نقصان پہنچایا گیا، 24 پیٹرول پمپس نذرِ آتش ہوئے، جبکہ 700 مقامی دکانیں اور 300 نجی رہائشی یونٹس تباہ کیے گئے۔ اس کے علاوہ 750 بینک، 414 سرکاری عمارتیں، 749 پولیس اسٹیشنز اور 120 بسیج مراکز کو نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق 200 اسکول، 350 مساجد، 15 کتب خانے، 2 آرمینیائی گرجا گھر، 253 بس اسٹاپس، 600 اے ٹی ایم مشینیں اور 800 نجی گاڑیاں بھی پرتشدد کارروائیوں کی زد میں آئیں۔

ان واقعات کے نتیجے میں مجموعی طور پر 3 ہزار 117 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 2 ہزار 427 شہری اور سیکیورٹی اہلکار جبکہ 690 دہشت گرد شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام تباہی 48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں ریکارڈ کی گئی، جبکہ عملی طور پر زمینی سطح پر یہ کارروائیاں صرف 10 سے 12 گھنٹوں کے دوران ہوئیں۔ دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں زیادہ تر رات 8 بجے سے صبح 3 بجے تک جاری رہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کی تباہی کسی احتجاج کا نتیجہ نہیں بلکہ منظم فساد کی واضح مثال ہے۔ پولیس اسٹیشنز اور حساس تنصیبات پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ کارروائیاں پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کی گئیں۔ عام مظاہرین اس سطح کی تنظیم اور ہم آہنگی کے حامل نہیں ہوتے۔
مزید کہا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد شہری زندگی کو مفلوج کرنا اور معاشرے کو شدید نفسیاتی صدمے سے دوچار کرنا تھا، تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ ریاستی ادارے ناکام ہو چکے ہیں اور ایک انقلابی صورتحال جنم لے رہی ہے۔
تجزیے کے مطابق اس منصوبے کا مقصد فیصلہ ساز اداروں کو ہلا کر رکھ دینا اور بڑے پیمانے پر عوام کو سڑکوں پر لانا تھا، تاہم ابتدائی گھنٹوں کے بعد یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا اور صورتحال دو دن کے اندر قابو میں آ گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک نہایت منظم اور سوچا سمجھا آپریشن تھا، مگر اس کے بعد کے مراحل عملی شکل اختیار نہ کر سکے، بالکل اسی طرح جیسے حالیہ 12 روزہ جنگ میں ایران کی جوابی صلاحیت کو کم سمجھا گیا، جو ایک غلط اندازہ ثابت ہوا۔


