آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری بیڑے کی آمد کے بعد ایرانی بحریہ نے ایک غیر معمولی اور تاریخی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ شب جب امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن خلیج فارس کے نزدیک پہنچا تو ایرانی بحریہ نے فوری طور پر وسیع پیمانے پر عسکری اقدامات کیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سپاہ پاسداران کی تاریخ میں پہلی بار بحریہ کے تمام جنگی جہازوں کو مکمل طور پر میزائلوں سے لیس کر کے جنگی ترتیب میں خلیج فارس میں داخل کیا گیا۔

اس کے علاوہ تقریباً 300 تیز رفتار میزائل بردار کشتیاں امریکی بحری بیڑے کے قریب تعینات کی گئیں، جسے ایران کی جانب سے جنگی تیاری اور واضح پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی بحریہ کے تمام میزائل نظام محفوظ گوداموں سے نکال کر مختلف حساس مقامات پر منتقل کر دیے گئے اور انہیں فائرنگ کے لیے مکمل طور پر تیار حالت میں رکھا گیا۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کی صورت میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں ایرانی بحریہ کی تاریخ کی سب سے بڑی مشقیں تھیں، جو رات کے وقت اور مکمل میڈیا خاموشی کے ساتھ انجام دی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان مشقوں کے مزید پہلو آئندہ دنوں میں سامنے آ سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس طاقت کے مظاہرے کو خلیج فارس میں ایران کی بحری صلاحیت اور بازدارندگی کے واضح اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی حکمتِ عملی، کشیدگی کی سطح اور دھمکی آمیز بیانات میں تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔


