ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت کے معاملے پر چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں تمام آپشنز کھلے رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں چیئرمین پی سی بی نے وزیراعظم کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی موجودہ صورتحال اور معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے معاملے کو دانشمندی اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حل کرنے کی ہدایت کی۔
ملاقات کے بعد چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت سے متعلق حتمی فیصلہ جمعے یا پیر تک متوقع ہے۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کو آئی سی سی سے متعلق تمام امور سے آگاہ کیا گیا اور وزیراعظم نے تمام ممکنہ آپشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے مسئلہ حل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی نے ملاقات کے دوران آئی سی سی کے دہرے معیار پر بھی وزیراعظم کو بریفنگ دی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئی سی سی بھارت کے لیے ایک جبکہ دیگر ممالک کے لیے الگ قوانین لاگو کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی نے نشاندہی کی کہ بھارت نے چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان آنے سے انکار کیا تھا، جس پر اسے متبادل وینیو فراہم کر دیا گیا، جبکہ بنگلادیش نے بھارت میں سکیورٹی خدشات کے باعث وہاں جانے سے انکار کیا تو اسے متبادل وینیو دینے کے بجائے ورلڈ کپ سے باہر کر دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ محسن نقوی نے اس امر سے بھی آگاہ کیا کہ اگر پاکستان ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کرتا تو اسے شمولیت کے عوض ملنے والی خطیر رقم سے محروم ہونا پڑے گا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کا زیادہ نقصان بھارت کو ہوگا۔


