اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور اب بھی امید ہے کہ صورتحال مسلح تصادم کی طرف نہیں بڑھے گی، تاہم کسی بھی حملے کی صورت میں اس کے اثرات وسیع ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں حالیہ پرتشدد واقعات اور دہشت گرد کارروائیوں کے دوران بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا، جن میں 2 ہزار سکیورٹی اہلکاروں سمیت 3 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔
رضا امیری مقدم کے مطابق کارروائیوں کے دوران 690 دہشت گرد بھی مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور امریکا کے مطالبات قابل قبول نہیں۔
ایرانی سفیر نے ایران کے حوالے سے پاکستانی حکومت کے مؤقف پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی قیادت میں پاکستان نے اصولی موقف اپنایا اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مخلصانہ کردار ادا کیا۔
انہوں نے جنیوا میں پاکستان کے مستقل مشن کی پیشہ ورانہ کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان کی حمایت کو ایران ہمیشہ قدر و احترام سے یاد رکھے گا۔


