ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ایرنا کے مطابق امریکی وزارت خزانہ نے مزید 7 ایرانی شہریوں اور 2 کمپنیوں کا نام پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔
امریکی وزارت خزانہ نے ایران پر اپنی ناکام حددرجہ دباؤ پالیسی کے تحت اس بار ایک اشتعال انگيز حرکت کے تحت ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مؤمنی پر بھی پابندیاں عائد کردی ہیں۔امریکی وزارت خزانہ کی اس نئی فہرست میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مؤمنی، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے انٹیلی جنس شعبے کے سربراہ جنرل مجید خادمی اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور محکمہ پولیس کے کئی کمانڈروں کا نام دیکھا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ایران کے مشہور بزنس مین بابک زنجانی کو بھی امریکی وزارت خزانہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا گیا ہے۔


