ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے گروپ میچز میں پاکستان کے بھارت سے کھیلنے سے انکار کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) تشویش میں مبتلا ہو گئی ہے، جب کہ کرکٹ ایک بار پھر پاک-بھارت سیاسی کشیدگی کی زد میں آ گئی ہے۔
پاکستان کے فیصلے نے عالمی کرکٹ کی گورننگ باڈی کو فوری ردِعمل پر مجبور کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی سی سی اب پاکستان سے بیک چینل رابطوں پر غور کر رہی ہے تاکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے معاملے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کو کم کیا جا سکے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ کو اس سلسلے میں اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ عمران خواجہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطہ کر کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے حوالے سے بات چیت کریں گے اور انہیں پاکستان کو میچ کھیلنے پر آمادہ کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سنگاپور کرکٹ ایسوسی ایشن کی نمائندگی کرنے والے عمران خواجہ کو موجودہ حالات میں ثالث یا ’پیس میکر‘ کے طور پر متحرک کیا گیا ہے، جب کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت پر کرکٹ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزامات ایک بار پھر زور پکڑ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان نے اتوار 15 فروری کو بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا میچ نہ کھیلنے کا باضابطہ اعلان کیا تھا، جس کے بعد عالمی کرکٹ حلقوں میں تشویش پیدا ہو گئی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے تاحال آئی سی سی کو اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے باضابطہ طور پر فیصلے سے آگاہ کرنے کا عمل مکمل نہیں کیا ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاک-بھارت کرکٹ تنازع ایک بار پھر اس سوال کو جنم دے رہا ہے کہ آیا کرکٹ واقعی سیاست سے الگ رہ سکتی ہے، یا پھر یہ کھیل جنوبی ایشیا میں ہمیشہ سفارتی دباؤ کا شکار ہی رہے گا۔


