ایران نے 3 فروری 2026 کو نیشنل اسپیس ٹیکنالوجی ڈے کی تقریب کے موقع پر پہلی مرتبہ اپنے جدید ترین آپٹیکل اور الیکٹرانک نگرانی کے سیٹلائٹ ’’پیام‘‘ کی جانب سے بھیجی گئی تصاویر کو عوام کے سامنے پیش کر دیا، جسے طلوع-3 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
شائع شدہ معلومات کے مطابق طویل فوکل لینتھ پر مشتمل اس سیٹلائٹ کے آپٹیکل اور الیکٹرانک امیجنگ یونٹ کی اسپیشل ریزولوشن رنگین تصاویر کی صورت میں تقریباً 10 میٹر جبکہ بلیک اینڈ وائٹ موڈ میں تقریباً 5 میٹر ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ریزولوشن اگرچہ مخصوص ماڈلز کے بکتر بند فوجی گاڑیوں یا دشمن کے فضائی دفاعی نظام کی درست شناخت کے لیے ناکافی ہے، تاہم یہ امریکی بحریہ کے اسٹرائیک کیریئر گروپ سے وابستہ جہازوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ خطے میں امریکی اور اسرائیلی فضائی افواج کے ٹیکٹیکل طیاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے مؤثر سمجھی جاتی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق آپٹیکل اور الیکٹرانک نگرانی کے شعبے میں ایران کا اگلا اور مزید جدید سیٹلائٹ ’طلوع-4‘‘ زیرِ تیاری ہے، جس کی متوقع ریزولوشن 2.5 میٹر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، جو نگرانی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ثابت ہو گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’پیام‘‘ سیٹلائٹ کی رونمائی ایران کی خلائی اور دفاعی ٹیکنالوجی میں بڑھتی ہوئی پیش رفت کی عکاس ہے، جس کے خطے میں اسٹریٹجک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


