گزشتہ روز ایران کی جانب سے ایک غیر معمولی رفتار اور صلاحیت رکھنے والی اسٹیلتھ ڈرون کی پرواز نے عالمی میڈیا اور دفاعی ماہرین میں خاصی ہلچل مچا دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ ایرانی ڈرون جنوب مغربی ایران سے پرواز کرتے ہوئے 10 کلومیٹر سے زائد بلندی پر 1400 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شمال مغربی علاقوں کی جانب گیا، ساحلِ بحرِ قزوین تک پہنچا اور پھر اسی راستے سے واپس لوٹ آیا۔

اس غیر معمولی پرواز نے متعدد دفاعی ماہرین کو حیران کر دیا ہے، جو اس ڈرون کے ماڈل اور نوعیت سے متعلق سوالات اٹھا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈرون کا ٹرانسمیٹر اور ریسیور پورے مشن کے دوران فعال رہا، جس کے باعث اس کی پرواز کی خصوصیات سول اور عسکری ریڈار سسٹمز میں ریکارڈ ہوتی رہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ اقدام ایران کی جانب سے اپنے ممکنہ دشمنوں کو ایک واضح، نپی تلی اور تکنیکی نوعیت کی پیغام رسانی سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران کے پاس پہلے سے ’’شاہد 171‘‘ جیسے ڈرون موجود ہیں، تاہم ان کی زیادہ سے زیادہ رفتار 800 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ نہیں، اور وہ اپنی معمول کی رفتار سے تقریباً دوگنا رفتار پر پرواز کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس تناظر میں یہ ڈرون ایرانی فضائی نگرانی اور ڈرون ٹیکنالوجی میں ایک نئی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نیا ڈرون نہ صرف انتہائی تیز رفتار ہے بلکہ دس گھنٹے سے زائد مسلسل پرواز کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صلاحیت کے حامل ڈرون مشرقی ایران سے پرواز کرتے ہوئے باآسانی بحرِ ہند میں واقع ڈیگو گارشیا کے جزیرے اور حتیٰ کہ یورپ میں قائم امریکی دور دراز فوجی اڈوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت ایران کی دفاعی حکمتِ عملی میں ایک نمایاں تبدیلی کی علامت ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن اور فضائی نگرانی کے نظام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔


