ایپسٹین فائلز کی نئی کھیپ ، عالمی اشرافیہ ایک بار پھر زد میں آ گئی

Date:

سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق تازہ دستاویزات کے اجراء نے عالمی سطح پر سیاسی، سماجی اور شاہی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی نئی فائلز میں عالمی رہنماؤں، ہالی وڈ شخصیات، ٹیکنالوجی ارب پتیوں اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق ایپسٹین فائلز کی اس تازہ کھیپ میں 30 لاکھ سے زائد صفحات، تصاویر اور ویڈیوز شامل ہیں۔ تاہم دستاویزات کے اجرا کے دوران محکمہ انصاف کی جانب سے ایک سنگین غلطی بھی سامنے آئی، جب تقریباً 40 ایسی تصاویر جاری کر دی گئیں جن میں متاثرہ نوجوان خواتین اور کم عمر لڑکیوں کے چہرے اور برہنہ جسم واضح تھے۔ شدید عوامی ردِعمل اور نیویارک ٹائمز کی نشاندہی کے بعد یہ تصاویر فوری طور پر ہٹا دی گئیں۔

دستاویزات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام متعدد بار سامنے آیا ہے، تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تازہ فائلز انہیں کسی بھی غیر قانونی یا غیر اخلاقی عمل سے بری ثابت کرتی ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق یہ ایپسٹین فائلز کی آخری کھیپ ہے، تاہم ڈیموکریٹک قانون سازوں نے سوال اٹھایا ہے کہ تحقیقات سے متعلق صرف نصف صفحات ہی کیوں جاری کیے گئے، جب کہ باقی دستاویزات اب تک منظرِ عام پر کیوں نہیں لائی گئیں۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی والدہ اور معروف فلم ساز میرا نائر کا ذکر گھسلین میکسویل کے گھر 2009 میں منعقدہ ایک پارٹی سے متعلق ای میلز میں آیا ہے۔ تاہم بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وہ تصاویر، جن میں میرا نائر کو جیفری ایپسٹین اور سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے ساتھ دکھایا گیا تھا، جعلی اور مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ثابت ہوئیں۔

دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے مطالبہ کیا ہے کہ شہزادہ اینڈریو امریکی کانگریس کے سامنے پیش ہو کر بیان دیں۔ نئی فائلز میں شہزادہ اینڈریو کی ایسی تصاویر شامل ہیں جن میں وہ ایپسٹین کی نیویارک رہائش گاہ میں ایک خاتون کے اوپر جھکے دکھائی دیتے ہیں۔ اینڈریو، جن سے پہلے ہی شاہی اعزازات واپس لیے جا چکے ہیں، الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ دستاویزات میں ان کی سابقہ اہلیہ سارہ فرگوسن اور ایپسٹین کے درمیان قریبی مالی اور سماجی تعلقات کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

فائلز کے مطابق برطانیہ کے سابق سینئر وزیر پیٹر مینڈلسن نے بینکرز کے بونس پر ٹیکس پالیسی سے متعلق سرکاری ای میلز ایپسٹین کو بھیجیں، جس کے بعد انہیں امریکا میں برطانوی سفیر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ سلوواکیہ میں وزیراعظم کے قومی سلامتی مشیر میروسلاو لائیچک نے بھی ایپسٹین سے متعلق لڑکیوں اور سفارت کاری پر گفتگو منظرِ عام پر آنے کے بعد استعفیٰ دے دیا۔

اسکینڈل ناروے کے شاہی خاندان تک بھی جا پہنچا، جہاں ولی عہد شہزادی میٹے مارٹ نے معذرت کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ 2013 میں ایپسٹین کے فلوریڈا میں واقع گھر میں قیام کر چکی ہیں اور انہوں نے اس کے پس منظر کی مناسب جانچ نہیں کی تھی۔

نئی فائلز میں امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے میمو بھی شامل ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جیفری ایپسٹین کے سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود باراک اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ قریبی تعلقات تھے اور اس نے وہیں سے مبینہ طور پر جاسوسی کی تربیت حاصل کی۔

دستاویزات میں ایک غیر معمولی مالی لین دین کی تفصیل بھی سامنے آئی ہے۔ 2017 کی ای میلز کے مطابق متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک کاروباری خاتون نے غلافِ کعبہ کو ایپسٹین کے گھر بھجوانے کا انتظام کیا تھا، جس پر عالمی سطح پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایپسٹین فائلز کی یہ تازہ کھیپ نہ صرف طاقتور حلقوں کے لیے شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہے بلکہ عالمی انصاف، شفافیت اور احتساب کے نظام پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

ایران کی تیز رفتار اور اسٹیلتھ ڈرون پرواز نے ماہرین کو حیران کر دیا

گزشتہ روز ایران کی جانب سے ایک غیر معمولی...

افغان طالبان رجیم سے ہمسایہ ممالک کو شدید خطرات، سرحد پار دہشت گردی میں اضافہ

افغان طالبان اپنے اعلان کردہ وعدوں کے برعکس دہشت...

ایران کی سفارتی کامیابی، امریکا مذاکرات ترکیہ سے عمان منتقل کرنے پر آمادہ

ایران نے امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر...

سلطان محمد گولڈن کے نئے گنیز ورلڈ ریکارڈز، عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن

پاکستان کے مایہ ناز ڈرائیور سلطان محمد گولڈن نے...