وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اسلام آباد میں مسجد و امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ظلم کا جواب ریاست پوری قوت سے دے گی اور دہشت گردوں کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں وزیر دفاع نے کہا کہ مسجد میں نمازیوں کو شہید کرنے والے دین اور وطن کے کھلے دشمن ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ حملے میں ملوث خودکش دہشت گرد کا افغانستان آنا جانا ثابت ہو چکا ہے، جبکہ تحقیقات کے دوران بھارت اور طالبان کے گٹھ جوڑ کے تانے بانے بھی مل رہے ہیں۔
خواجہ آصف کے مطابق حملے کے وقت سیکیورٹی پر مامور گارڈز نے حملہ آور کو چیلنج کیا، جس کے جواب میں اس نے فائرنگ شروع کر دی۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ خودکش حملہ آور نے نمازیوں کی آخری قطار میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے باعث قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بزدلانہ اور انسانیت سوز کارروائی ہے، جس کا حساب لیا جائے گا۔
وزیر دفاع نے بھارت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عبرت ناک شکست کے بعد بھارت اب اپنی پراکسیوں کے ذریعے جنگ لڑ رہا ہے اور اس میں براہِ راست جنگ لڑنے کی ہمت نہیں رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنائے گا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں نمازِ جمعہ کے دوران مسجد و امام بارگاہ خدیجتُہ الکبریٰ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 31 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور کو مسجد میں داخلے سے روکے جانے پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے سے قبل فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس، فوج کے دستوں اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
تمام زخمیوں کو فوری طور پر پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ وفاقی دارالحکومت کے تمام اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ سیکیورٹی ادارے واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کر رہے ہیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
ریاستی حکام کے مطابق قوم متحد ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔


