امریکا،ایران جوہری مذاکرات کے دوران ایران نے یورینیم افزودگی کو ختم کرنے سے متعلق امریکی مطالبہ کھلے الفاظ میں رد کر دیا ہے۔ یہ بات عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والی غیر براہِ راست بات چیت کے بعد سامنے آئی، جس میں دونوں ممالک نے اپنے اپنے مؤقف برقرار رکھے۔
🔹 امریکی مطالبہ:
امریکہ مذاکرات میں ایران سے مطالبہ کر رہا تھا کہ وہ اپنی یورینیم افزودگی کی سرگرمیوں کو پوری طرح روک دے۔ واشنگٹن کے نزدیک اس قدم کے بغیر کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ افزودگی سے ایران کو نیوکلیئر ہتھیار بنانے کا راستہ مل سکتا ہے۔
🔹 ایران کا مؤقف:
ایران نے سختی سے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری افزودگی اس کا قانونی اور غیر متنازعہ حق ہے، اور وہ اسے کسی بھی معاہدے کے لیے قربان نہیں کرے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ عمل صرف پرامن توانائی اور سائنسی ترقی کے لیے ہے، اور اسے روکنا نا قابلِ قبول ہے۔
🔹 مذاکرات کا پسِ منظر:
ایران میں حالیہ احتجاجوں اور پولیس کریک ڈاؤن کے بعد امریکا کی جانب سے دھمکیوں اور مشرق وسطیٰ میں فوجی سرگرمیوں میں خطرناک حد تک اٖضافے کے دونوں فریق مذاکرات کی ٹیبل پر آئے ہیں تاہم دونوں طرف ابھی تک شدید اختلافات موجود ہیں، خاص طور پر امریکہ کی جانب سے یورینیم افزودگی کے خاتمے اور ایران کی جانب سے اس حق کے تحفظ پر زور برقرار ہے۔
🔹 اب تک کے نتائج:
عمان میں ہونے والی تازہ بات چیت کے بعد مذاکرات ابھی کے لیے ختم قرار دیے گئے ہیں، جبکہ دونوں ممالک نے آگے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔

🔹خلاصہ:
ایران نے امریکی مطالبے کے برعکس یورینیم افزودگی کو ختم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے، جس نے جوہری مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ پیدا کر دی ہے۔ اب معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں ممالک کو ایک ایسا لائحۂ عمل تلاش کرنا ہوگا جس میں ایران کے جوہری حقوق کا احترام اور عالمی سلامتی خدشات دونوں کا توازن ہو۔


