امریکا کے سابق قومی سلامتی مشیر جان بولٹن نے امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کے حوالے سے سخت اور تشویش ناک بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملاقاتیں محض وقت کا ضیاع ہیں۔
جان بولٹن کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان اس معاملے پر کسی بھی قسم کے معاہدے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیا فیصلہ کریں گے، تاہم ان کے خیال میں یہ مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچیں گے، چاہے یہ عمان میں ہوں، ترکی میں ہوں یا حتیٰ کہ چاند کی سطح پر ہی کیوں نہ منعقد کیے جائیں۔
بولٹن نے مزید کہا کہ یہ تمام سفارتی کوششیں بے سود ہیں اور ان کے بقول اصل پیش رفت مذاکرات نہیں بلکہ کارروائی کی صورت میں سامنے آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت کا ضیاع ہے، اور حملہ آنے والا ہے۔
مبصرین کے مطابق جان بولٹن کا یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے، جس نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔


