خبروں کے مطابق ایران نے حال ہی میں چین اور روس کے جدید ترین اور سب سے طاقتور اسلحہ درآمد کیا ہے،ذرائع کے مطابق چین اور روس کی جانب سےاس جدید ترین اسلحے کو فراہم کرنے کا مقصد مبینہ طور پر ان اسلحہ جات کا عملی طور پر امریکی افواج کے خلاف تجربہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ اسلحہ جدید راکٹ سسٹمز، ہائی-ڈیفینیشن ڈرونز، اور جدید فضائی دفاعی نظام پر مشتمل ہیں، جو روس اور چین کے پاس دستیاب سب سے جدید ترین ہتھیار ہیں اور اب تک بڑے پیمانے پر عملی جنگ میں استعمال نہیں ہوئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اس اقدام کا مقصد ایک جانب اپنی فوجی صلاحیتوں کو بہتر بنانا، اور دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی افواج کے لیے ایک نئے اور غیر متوقع خطرے کو جنم دینا۔
تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ اسلحہ عملی طور پر استعمال ہونے پر علاقے میں سیکیورٹی اور عسکری بحران پیدا کر سکتا ہے،دوسری جانب چین اور روس کو اپنا جدید ترین اسلحہ عملی طورپر ایک دشمن ملک پر آزما کر اس کی افادیت اور اثرات کا جائزہ لینے کا موقع ملے گا۔
ادھر ماہرین کے مطابق ایران کے لیے اس اسلحے کو عملی تجربات میں لانا طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے اور امریکہ کے مستقبل کے کسی بھی ممکنہ اقدام کے خلاف ایران کی جوابی صلاحیت میں اضافہ کر سکتا ہے، جس سے پورے خطے کی صورتحال مزید نازک ہو سکتی ہے۔
مختصراً، رپورٹس کے مطابق تہران نے ایک نئے اسلحہ ریس میں حصہ لیا ہے، جس میں وہ امریکی افواج کے خلاف چینی اور روسی ہتھیاروں کو عملی طور پر آزمانے کے لیے تیار ہے


