سعودی عرب نے عالمی سطح پر اونٹوں کی شناخت اور رجسٹریشن کے لیے ایک منفرد اقدام کرتے ہوئے ’کیمل پاسپورٹ‘ کے اجرا کا اعلان کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح سعودی نائب وزیرِ ماحولیات، پانی اور زراعت منصور المشیطی نے کیا۔
سعودی حکام کے مطابق کیمل پاسپورٹ ایک جامع شناختی اور تنظیمی دستاویز کے طور پر کام کرے گا، جس کا مقصد اونٹوں کے ریکارڈ کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور قومی ورثے کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ پاسپورٹ نہ صرف سعودی عرب بلکہ عالمی سطح پر اونٹوں کی شناخت کے لیے ایک معیاری نظام فراہم کرے گا۔
حکام کے مطابق کیمل پاسپورٹ میں اونٹ سے متعلق تمام بنیادی اور اہم معلومات شامل ہوں گی، جن میں مائیکرو چِپ نمبر، پاسپورٹ نمبر اور تاریخِ پیدائش شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاسپورٹ میں اونٹ کا نام، نسل، جنس، رنگ اور جائے پیدائش بھی درج کی جائے گی، جبکہ شناخت کے لیے جانور کی تصویر بھی پاسپورٹ کا حصہ ہوگی۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اونٹوں کی نقل و حرکت، افزائشِ نسل، صحت اور ملکیتی ریکارڈ کو مؤثر بنانے میں مدد دے گا، جبکہ اونٹوں کے تحفظ اور ان سے متعلق شعبے کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کے قومی ورثے میں 22 لاکھ (2.2 ملین) اونٹ رجسٹرڈ ہیں، جن میں سب سے زیادہ تعداد ریاض ریجن میں ہے، جہاں 6 لاکھ 54 ہزار سے زائد اونٹ رجسٹرڈ ہیں۔
ماہرین کے مطابق کیمل پاسپورٹ کا اجرا سعودی عرب کی ثقافتی شناخت کے تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج کی ایک نمایاں مثال ہے، جو اونٹوں سے وابستہ روایتی ورثے کو عالمی سطح پر نئی شناخت دے گا۔


