تحریر عارف کاظمی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود کو اکثر ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں جوجنگیں ختم کرانے اور امریکا کو نئی جنگوں سے بچانے کا عزم رکھتا ہے۔ ان کے بیانات میں بارہا یہ دعویٰ سننے کو ملتا ہے کہ وہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حامی ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی کے انداز، سخت بیانات، معاشی پابندیوں، اور طاقت کے بھرپور استعمال کی دھمکیوں سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ امریکا ایک جارحانہ اور دباؤ پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ اسی تناظر میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ٹرمپ کی پالیسیوں کا انجام امریکا کے لیے ویسا ہی ہوسکتا ہے جیسا سوویت یونین کے لیے میخائل گورباچوف کے دور میں ہوا؟

ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو اکثر Peace through Strength یعنی طاقت کے ذریعے امن کے تصور سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق امریکا اپنی عسکری، معاشی اور سفارتی طاقت کا مظاہرہ کرکے مخالفین کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرتا ہے۔ چین کے ساتھ تجارتی جنگ، ایران پر سخت پابندیاں، نیٹو اتحادیوں پر دفاعی اخراجات بڑھانے کا دباؤ، اور لاطینی امریکی ممالک کے معاملات میں سخت موقف—یہ سب اسی حکمت عملی کی مثالیں سمجھی جاتی ہیں۔

حامیوں کے مطابق اس انداز نے امریکا کو عالمی سطح پر مضبوط پیغام دینے میں مدد دی۔ ناقدین کے نزدیک یہی رویہ عالمی کشیدگی کو بڑھاتا ہے اور امریکا کو ایک ایسے راستے پر ڈال سکتا ہے جہاں سفارتی توازن کمزور ہو جائے۔
لاطینی امریکی ممالک کے حوالے سے امریکا کی پالیسی اکثر داخلی سیاسی معاملات میں اثراندازی کے الزامات کا سامنا کرتی رہی ہے۔ یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں بھی تجارتی تنازعات اور دفاعی اخراجات پر اختلافات سامنے آئے۔ جنوبی اور مشرقی ایشیا میں چین کے خلاف سخت مؤقف اور بحرالکاہل میں عسکری موجودگی نے خطے میں طاقت کے توازن کو ایک حساس مسئلہ بنا دیا ہے۔


روس اور چین کے ساتھ تعلقات میں بیک وقت مسابقت اور سفارت کاری کا امتزاج نظر آتا ہے۔ ایک طرف اقتصادی اور اسٹریٹجک مقابلہ بازی، دوسری طرف محدود نوعیت کے مذاکرات۔ یہ پیچیدہ توازن عالمی سیاست کو غیر یقینی کیفیت میں رکھتا ہے۔
ایران کے معاملے میں سخت معاشی پابندیاں اور عسکری بیانات خطے میں تناؤ کو بڑھاتے رہے ہیں۔ اگرچہ کھلی جنگ سے گریز کی بات کی جاتی ہے، لیکن ماحول میں کشیدگی برقرار رہتی ہے۔ اس صورتحال نے مشرقِ وسطیٰ کو عالمی طاقتوں کے مفادات کا میدان بنائے رکھا ہے۔

میخائل گورباچوف نے سوویت یونین میں اصلاحات (گلاسنوست اور پیریستروئیکا) کے ذریعے نظام کو کھولنے اور عالمی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی، مگر ان اصلاحات کے غیر متوقع نتائج میں سوویت یونین کا انہدام بھی شامل تھا۔ اگر ٹرمپ کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو سوال یہ بنتا ہے
کیا سخت معاشی اور عسکری دباؤ امریکا کو اندرونی طور پر مضبوط کرے گا یا عالمی سطح پر تنہائی کا سبب بنے گا؟
کیا امریکا فرسٹ کی پالیسی اتحادیوں کو دور کر کے عالمی قیادت کے کردار کو کمزور کر سکتی ہے؟
یا پھر یہ حکمت عملی امریکا کو نئی اسٹریٹجک ترتیب میں مزید مستحکم کر دے گی؟
فرق یہ ہے کہ گورباچوف نے نظام کو نرم اور کھلا بنانے کی کوشش کی، جبکہ ٹرمپ کا انداز زیادہ قوم پرستانہ اور دباؤ پر مبنی سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے براہِ راست موازنہ سادہ نہیں، مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ بڑی طاقتوں کی پالیسیاں اکثر غیر متوقع تاریخی نتائج پیدا کرتی ہیں۔

ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو کچھ لوگ جرات مندانہ اور حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر اسے اشتعال انگیز اور خطرناک سمجھتے ہیں۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وہ امریکا کے لیے گورباچوف ثابت ہوں گے یا نہیں، مگر تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ عالمی طاقتوں کے فیصلے نہ صرف بیرونی دنیا بلکہ خود ان کے داخلی استحکام پر بھی گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔
بالآخر، یہ وقت اور عالمی سیاسی حرکیات ہی طے کریں گی کہ طاقت کے ذریعے امن کا نظریہ پائیدار ثابت ہوتا ہے یا عالمی توازن کو مزید نازک بنا دیتا ہے۔


