عالمی تجزیہ کاروں اور ماہرینِ امورِ خارجہ نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کو خطے کی سلامتی اور عالمی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔
افغان جریدے افغان انٹرنیشنل کے مطابق مختلف عالمی حلقوں میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ موجودہ طالبان حکومت کو عالمی سطح پر مکمل اعتماد حاصل نہیں اور اس کی حکمرانی کو غیر مستحکم قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کی حکومت وقتی اقتدار پر قائم دکھائی دیتی ہے جسے داخلی و خارجی سطح پر متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔
ایک سینئر روسی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ طالبان کی پالیسیاں غیر پائیدار حکمرانی اور عوامی بے چینی کی عکاسی کرتی ہیں، جو طویل المدتی استحکام کے لیے سازگار نہیں۔
سینٹر فار کنٹیمپریری ایرانی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر رجب سفاروف کے مطابق طالبان کا سیاسی طرزِ عمل اور حکمرانی کا انداز زیادہ عرصے تک اقتدار کو برقرار رکھنے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
روسی محقق آندرے سرینکو نے بھی اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ طالبان کی بنیادی سوچ میں نمایاں تبدیلی نہیں آئی، بلکہ بعض پہلوؤں سے وہ پہلے سے زیادہ غیر یقینی اور ناقابلِ پیش گوئی ہو گئے ہیں۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں انتہا پسندی اور سخت گیر پالیسیوں کا تسلسل پورے خطے میں عدم استحکام اور دہشت گردی کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ بعض حلقوں کے مطابق یہی عوامل طالبان حکومت کے مستقبل سے متعلق خدشات کو بھی تقویت دے رہے ہیں۔
تاہم افغانستان کی موجودہ قیادت کی جانب سے ان آرا پر باضابطہ ردعمل سامنے آنا باقی ہے، جبکہ خطے کی صورتحال بدستور عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔


