بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بیرونِ ممالک مقیم بعض بھارتی نژاد افراد سے متعلق گرفتاریوں، تحقیقات اور ملک بدری کے واقعات کا ذکر سامنے آیا ہے، جس پر بھارت میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہندوستان ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی امیگریشن ڈیٹا بیس میں اعلیٰ ترجیحی مجرمانہ کیسز کی فہرست میں 89 بھارتی نژاد افراد کے نام شامل ہیں۔
اخبار کے مطابق امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اپنی ویب سائٹ پر متعلقہ ناموں اور الزامات کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ ان افراد پر جنسی جرائم، منشیات اسمگلنگ، فراڈ، اغوا، منی لانڈرنگ اور تشدد جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
اسی تناظر میں انڈین ایکسپریس نے 2025 کے دوران امریکا سے 3800 غیر قانونی بھارتی شہریوں کی ملک بدری کا بھی ذکر کیا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک جرائم میں ملوث افراد کے واقعات کسی بھی ملک کی مجموعی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جرائم انفرادی نوعیت کے ہوتے ہیں اور انہیں پوری قوم یا کمیونٹی سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب بعض ناقدین نے بھارت میں داخلی سماجی و قانونی چیلنجز کو بھی زیرِ بحث لاتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی اور شفاف عدالتی نظام کسی بھی ملک کی ساکھ کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔ تاہم ان معاملات پر بھارتی حکومت کا مؤقف اور سرکاری ردعمل بھی اہمیت کا حامل ہوگا۔


