اسلام آباد: ترلائی مسجد خودکش دھماکے کے دو اور زخمی دم توڑ گئے جس کے بعد شہدا کی تعداد 35 تک پہنچ گئی ہے۔
زخمیوں میں اسلام آباد کے عقیل عباس پولی کلینک اور سندھ کے رتوڈیرو کے علی بوسن شامل تھے جو نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔
دھماکے کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں حملہ آور پیدل مسجد تک پہنچ کر گیٹ کے قریب فائرنگ کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
واقعے کے وقت مسجد کے مرکزی گیٹ پر کوئی پولیس اہلکار موجود نہیں تھا۔ سیکیورٹی انتظامات میں کوتاہی کے الزام میں ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاؤن، اشفاق وڑائچ کو معطل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب گورنرسندھ، جماعت اسلامی کے وفد اور پیپلزپارٹی کے سینیٹرز نے مسجد خدیجۃ الکبریٰ کا دورہ کیا، دھماکے کی مذمت کی، شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور حکومت سے سیکیورٹی انتظامات بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔
گورنرسندھ نے خودکش بمبار کو روکنے والے شہید عون عباس کے گھر بھی جا کر اہل خانہ سے تعزیت کی اور کہا کہ وہ وزیراعظم سے سفارش کریں گے کہ شہید عون عباس کو سول ایوارڈ دیا جائے۔


