ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خارجہ امور کیلئے مشیر محمد جواد لاریجانی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کی صورت میں ایران کا ردعمل محدود یا روایتی "آنکھ کے بدلے آنکھ” جیسا نہیں ہوگا۔
ایران کی نیم سرکاری مہر خبر ایجنسی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکہ کے مفادات وسیع اور مختلف مقامات پر پھیلے ہوئے ہیں، اس لیے ایران کا ردعمل بھی وسیع پیمانے پر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ممکنہ ردعمل میں بھاری جانی و مالی نقصان، اہم اثاثوں کو شدید نقصان اور خطے بھر میں بڑے مفادات کو متاثر کرنا شامل ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق ایران دفاعی حکمتِ عملی سے ہٹ کر جارحانہ انداز اپنائے گا اور مبینہ جارحیت کے مراکز اور خطے میں اس کے شراکت داروں کو نشانہ بنائے گا تاکہ بھاری نقصان پہنچایا جا سکے اور عدم استحکام کے اسباب کو روکا جا سکے۔


