ایران کی نیم سرکاری مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جنوری کے اوائل میں ہونے والے واقعات کو محض احتجاج نہیں بلکہ وسیع تر دہشت گردانہ آپریشن اور بیرونی سازش کے تحت ہونے والے کودیتا سے مشابہ اقدام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
عراقچی نے کہا کہ بارہ روزہ جنگ ایک اہم موڑ تھا۔ جو عناصر ابتدائی دنوں میں ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہے تھے، وہی بارہویں دن غیر مشروط جنگ بندی کی درخواست کرتے نظر آئے۔
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ان تمام حالات میں ایرانی عوام کی مزاحمت فیصلہ کن عنصر ثابت ہوئی۔ عوام نے ملک، اسلامی انقلاب اور اپنے ان نظریات کے دفاع میں ثابت قدمی دکھائی جن کے لیے اڑتالیس برس قبل انقلاب برپا کیا گیا تھا۔ یہی عوامی استقامت تھی جس نے فریقین کو ایک بار پھر سفارت کاری کی جانب متوجہ کیا۔
عراقچی نے کہا کہ ایران کے جوہری مسئلے کا کوئی حل سفارت کاری کے سوا ممکن نہیں، اور یہ بات ماضی میں بارہا ثابت ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق، جب بھی ایران سے دباؤ اور دھمکی کی زبان میں بات کی گئی، عوام نے مزاحمت کی؛ اور جب احترام و وقار کے ساتھ بات کی گئی تو اسی انداز میں جواب ملا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں ایران سنجیدہ ہے اور نتیجہ خیز بات چیت کا خواہاں ہے، بشرطیکہ دوسرا فریق بھی سنجیدگی اور عملی ارادہ ظاہر کرے۔ تاہم، ان کے بقول امریکہ کے گزشتہ برسوں اور حالیہ اقدامات کے باعث ایک گہری بداعتمادی کی فضا موجود ہے۔
عراقچی نے تہران میں مقیم سفارتی برادری کو درپیش مشکلات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بارہ روزہ جنگ اور حالیہ بدامنی کے دوران پیش آنے والے مسائل، بشمول انٹرنیٹ کی بندش، سکیورٹی کے تقاضوں کے تحت تھے اور ان کا مقصد عوام اور سفارت کاروں کی حفاظت تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی پالیسی ہمسایہ ممالک کے ساتھ قریبی تعاون پر مبنی ہے اور اس سلسلے میں علاقائی استحکام اور تنازعات کی روک تھام کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رہیں گی۔


