ایران کی خلائی ایجنسی اپنے پہلے ریڈار سیٹلائٹ “ریڈ ون” کی رونمائی کے لیے تیار ہے، جو مصنوعی اپرچر ریڈار (SAR) ٹیکنالوجی سے لیس ہوگا اور اس کی تصویری ریزولوشن 50 میٹر سے بہتر بتائی جا رہی ہے۔
ایران کی نیم سرکاری مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق ایرانی خلائی ایجنسی کے سربراہ حسن سالاریہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران دو مختلف سیریز کے تحت ریڈار سیٹلائٹس تیار کر رہا ہے، جنہیں “ریڈ ون” اور “ریڈ ٹو” کا نام دیا گیا ہے۔
حسن سالاریہ نے بتایا کہ “ریڈ ون” ایک ایس اے آر طرز کا ریڈار سیٹلائٹ ہے، جو 50 میٹر سے بہتر ریزولوشن کے ساتھ زمین کی تصاویر حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوسرے منصوبے “ریڈ ٹو” پر بھی کام جاری ہے، جس کی تصویری درستگی 20 میٹر سے بہتر ہوگی اور یہ ایرانی خلائی تحقیقی ادارے میں زیرِ تکمیل ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ چند برسوں میں اس کی بھی رونمائی کر دی جائے گی۔
ایرانی خلائی ایجنسی کے سربراہ نے ریڈار سیٹلائٹس کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ مرئی روشنی کے علاوہ دیگر اسپیکٹرم اور ویولینتھ، جیسے ایکس بینڈ، میں بھی تصاویر حاصل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت خراب موسم، گرد و غبار یا بادلوں کی موجودگی کے باوجود مؤثر انداز میں تصویریں لینا ممکن ہوتا ہے۔
سالاریہ کے مطابق برف سے ڈھکے علاقوں کی نگرانی بھی ممکن ہوگی، جس سے ملک کی سیٹلائٹ امیجنگ صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔


