سلطنت عثمانیہ کی سرحدیں کہاں کہاں تک پھیلی ہوئی تھیں؟؟

Date:

سلطنتِ عثمانیہ… ایک ایسا باب جس کی بازگشت آج بھی تین براعظموں کی فضاؤں میں سنائی دیتی ہے۔ یہ صرف ایک سلطنت نہیں تھی بلکہ تہذیبوں، زبانوں، مذاہب اور ثقافتوں کا ایک عظیم سنگم تھی، جس نے صدیوں تک یورپ، ایشیا اور افریقہ کے وسیع خطوں کو ایک سیاسی و انتظامی نظام میں جوڑے رکھا۔

ترکیے اس سلطنت کا دل تھا، جہاں سے ایک ایسا سفر شروع ہوا جو یونان کے ساحلوں، بلغاریہ اور رومانیہ کی وادیوں، سربیا، بوسنیا و ہرزیگووینا، کوسوو، البانیا، کروشیا، مونٹینیگرو اور شمالی مقدونیہ کے پہاڑوں تک پھیل گیا۔ بلقان کی سرزمین آج بھی عثمانی طرزِ تعمیر، مساجد کے میناروں اور قدیم بازاروں میں اس تاریخ کی جھلک سنبھالے ہوئے ہے۔

یہ سلطنت بحیرۂ اسود کے کناروں تک پہنچی، جہاں یوکرین، مالدووا، جارجیا اور آرمینیا کے خطے اس کے اثر میں آئے۔ مشرقِ وسطیٰ میں فلسطین، شام، لبنان، اردن، عراق، کویت، سعودی عرب اور اسرائیل جیسے علاقے اس نظم کا حصہ بنے۔ مصر، لیبیا اور سوڈان کی سرزمینوں پر بھی عثمانی پرچم لہرایا، جبکہ قبرص اس بحری طاقت کی اہم علامت بنا رہا۔

سلطنتِ عثمانیہ کی وسعت محض جغرافیہ تک محدود نہ تھی؛ اس نے قانون، فنِ تعمیر، فوجی حکمتِ عملی، تجارت اور انتظامی ڈھانچے میں گہرے نقوش چھوڑے۔ استنبول کی مساجد، دمشق کے بازار، یروشلم کی گلیاں، قاہرہ کی عمارتیں اور بلقان کے پل آج بھی اس عہد کی کہانی سناتے ہیں۔

یہ وہ عہد تھا جب مختلف نسلیں اور مذاہب ایک ہی سیاسی چھتری تلے سانس لیتے تھے۔ یقیناً وقت کے ساتھ حالات بدلے، سرحدیں بدلیں اور نئی ریاستیں وجود میں آئیں، مگر تاریخ کے اوراق میں عثمانی سلطنت ایک ایسی داستان کے طور پر محفوظ ہے جس نے دنیا کے نقشے اور تہذیبی دھاروں کو گہرائی سے متاثر کیا۔

آج یہ ممالک آزاد اور خودمختار ریاستیں ہیں، مگر ان کے شہروں کی اینٹوں، ثقافتوں کی رنگت اور روایات کی خوشبو میں سلطنتِ عثمانیہ کی یاد اب بھی محسوس کی جا سکتی ہے—ایک عہد، جو گزر گیا مگر مٹ نہ سکا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related