عراقی حکومت نے صدام حسین کے ساتھی اور شہید آیت اللہ سید محمدباقر الصدر کے قاتل کو سزائے موت دے دی

Date:

عراقی حکام نے اعلان کیا ہے کہ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید محمدباقر الصدر اور ان کی بہن بنت الہدٰی کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم سعدون صبری القیسی کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔

ایران کی نیم سرکاری مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عراق کی قومی سلامتی سروس نے ایک بیان میں کہا کہ ملزم کو تمام قانونی و عدالتی تقاضے مکمل ہونے کے بعد پھانسی دی گئی

۔ سعدون صبری القیسی کو 1980 میں آیت اللہ محمدباقر الصدر کی شہادت میں ملوث ہونے کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا تھا، جبکہ عدالت نے اسے انسانیت سوز جرائم کا بھی قصوروار ٹھہرایا۔

سرکاری بیان کے مطابق القیسی سابق عراقی حکومت کے دور میں مختلف سکیورٹی عہدوں پر فائز رہا، جن میں اعلیٰ سکیورٹی اداروں کی نگرانی اور بصرہ و نجف کے سکیورٹی سربراہ کے عہدے شامل تھے۔

2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ ملک سے فرار ہو کر شام چلا گیا تھا، جہاں وہ مبینہ طور پر جعلی نام "حاج صالح” کے تحت مقیم رہا۔ بعد ازاں فروری 2023 میں وہ عراق کے کردستان ریجن کے شہر اربیل واپس آیا، جہاں اسے گرفتار کر کے قانونی کارروائی مکمل کی گئی۔

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام انصاف کی فراہمی اور ماضی کے جرائم کے احتساب کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related