کیا ایپسٹین موساد کا ایجنٹ تھا؟،دی ٹائمز میگزین کی رپورٹ نے نئے سوالات اٹھ کھڑے

Date:

امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی نئی دستاویزات نے جیفری ایپسٹین کے مبینہ اسرائیلی روابط سے متعلق بحث کو ایک بار پھر ہوا دے دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق فائلوں میں موجود معلومات متضاد اور غیر واضح ہیں، جس کے باعث شکوک و شبہات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔

دستاویزات میں ایک خفیہ ذریعے کا حوالہ دیا گیا ہے جس نے ایف بی آئی کو بتایا کہ ایپسٹین ممکنہ طور پر موساد کی ہدایت پر کام کرنے والا ایجنٹ ہو سکتا ہے۔ تاہم حکام کی جانب سے اس دعوے کی کوئی باضابطہ تصدیق یا ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

فائلوں میں 2018ء کی خط و کتابت بھی شامل ہے جس میں ایپسٹین نے اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود بارک سے درخواست کی کہ وہ واضح طور پر یہ بیان دیں کہ وہ موساد کے لیے کام نہیں کرتا۔ اس مراسلت نے مبصرین کے لیے مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مزید برآں، ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے اسرائیلی اسٹارٹ اپ کمپنی "کاربائن” میں 1.5 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری میں کردار ادا کیا اور کمپنی کی فنانسنگ سے متعلق بارک کے ساتھ خط و کتابت بھی کی۔

دستاویزات میں یہ بھی درج ہے کہ بارک اور ان کے اہل خانہ ایپسٹین کے نیویارک کے گھر میں قیام پذیر رہے، اور یہ تعلق ایپسٹین کی ابتدائی گرفتاری کے بعد بھی برقرار رہا۔

رپورٹ کے مطابق ایپسٹین کے اسرائیل کے مجوزہ دوروں، اسرائیلی رئیل اسٹیٹ میں دلچسپی اور بعض ذاتی نوٹس بھی ان فائلوں کا حصہ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اب تک کوئی قطعی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ ایپسٹین باضابطہ طور پر کسی انٹیلی جنس ایجنسی کا "ایجنٹ” تھا، تاہم یہ امکان زیرِ بحث رہا کہ اسے کسی حد تک بطور "اثاثہ” استعمال کیا گیا ہو۔

حکام کی جانب سے اس معاملے پر مزید وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ نئی دستاویزات نے بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر اس متنازع شخصیت کے روابط پر سوالات کو زندہ کر دیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related