امریکی حکام نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایرانی تیل بردار جہازوں کو تحویل میں لینے کے امکان پر غور شروع کر دیا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اس حوالے سے ابتدائی سطح پر مشاورت کی گئی ہے، تاہم اس اقدام کے ممکنہ نتائج پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
عہدیدار کا کہنا ہے کہ اگر ایرانی تیل بردار جہازوں کو قبضے میں لیا گیا تو ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کا خطرہ موجود ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ اور عالمی تیل منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس میں اس حکمتِ عملی پر بھی تبادلہ خیال ہوا جو اس سے قبل وینزویلا کے خلاف اپنائی گئی تھی۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ایران کے معاملے میں ایسی کسی کارروائی کے نتیجے میں تہران کا سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا گزشتہ دو ماہ کے دوران وینزویلا کو تیل فراہم کرنے والے متعدد جہازوں کے خلاف کارروائیاں کر چکا ہے، جبکہ اسی دوران ایرانی تیل لے جانے والے بعض جہاز بھی ضبط کیے گئے تھے۔


