سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان کے ہم خیال گروپ نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ شمولیت کا اعلان صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا۔
حاجی گلبر خان کی قیادت میں بننے والے اس گروپ میں 14 بااثر سیاسی شخصیات شامل ہیں، جن میں گلگت بلتستان کے سابق گورنر راجہ جلال حسین مقپون، سابق قائد حزب اختلاف کیپٹن (ر) شفیع، سابق وزرا فتح اللہ خان، حاجی شاہ بیگ، شمس اللہ حق، دلشاد بانو، خان اکبر خان اور مولانا سلطان رئیس شامل ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راجہ جلال مقپون نے کہا کہ طویل مشاورت کے بعد استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک اور گلگت بلتستان کی خدمت کے جذبے سے اس جماعت کا حصہ بنے ہیں اور ان شاء اللہ عوام کی فلاح کے لیے مل کر کام کریں گے۔
سابق وزیر اعلیٰ حاجی گلبر خان نے کہا کہ انہوں نے ڈھائی سال کے دور میں گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے بھرپور اقدامات کیے اور اب استحکام پاکستان پارٹی کے پلیٹ فارم سے مزید ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ انہوں نے عبدالعلیم خان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کی بھرپور خدمت کریں گے۔
اس موقع پر عبدالعلیم خان نے نئے ساتھیوں کو پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہوئے اعلان کیا کہ استحکام پاکستان پارٹی پہلی بار گلگت بلتستان کے انتخابات میں حصہ لے گی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بے پناہ ترقی اور سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں اور یہ خطہ دنیا کا بڑا سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔
عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور علاقائی ترقی پارٹی کی اولین ترجیح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں مقامی وسائل سے آمدن پیدا کی جا سکتی ہے اور اسے وفاق سے چند ارب روپے مانگنے کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ خطہ پورے پاکستان کو آمدن دے سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاحت کے فروغ کے لیے فائیو اسٹار ہوٹلز قائم کیے جائیں گے اور مقامی آبادی پر اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔ اسکردو ایئرپورٹ پر بین الاقوامی پروازوں کی بحالی سے سیاحت کو فروغ ملا ہے اور آئندہ بھی اس شعبے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
سیاسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالعلیم خان نے کہا کہ انہوں نے کسی جماعت سے بغاوت نہیں کی بلکہ ان سے بغاوت کی گئی، تاہم اب راستے جدا ہو چکے ہیں اور مزید بات مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے منشور کے ساتھ عوام کے پاس جائیں گے، اگر عوام نے منتخب کیا تو بسم اللہ اور اگر نہ کیا تو بھی بسم اللہ۔


