امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا مشرق وسطیٰ میں ایک اور بحری بیڑہ تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ ہفتے متوقع ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اس بار سنجیدگی سے مذاکرات میں شامل ہے کیونکہ اسے امریکی فوجی طاقت کا اندازہ ہو چکا ہے اور اسی لیے وہ معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے
انہوں نے جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر سابقہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایران نے بات چیت کو سنجیدگی سے نہیں لیا، تاہم اب مذاکرات کی نوعیت مختلف ہے۔
امریکی صدر نے خبردار کیا کہ مذاکرات ناکامی کی صورت میں مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائی کی تیاری کے لیے ایک اور بحری بیڑہ تعینات کیا جا سکتا ہے اور اگر معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا کو انتہائی سخت اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ مشرق وسطیٰ میں دوسرا ائیرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ بھیجا جا سکتا ہے۔
اس وقت خطے میں یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کا اسٹرائیک گروپ موجود ہے، جس میں جنگی طیارے، ٹوماہاک میزائل اور متعدد بحری جہاز شامل ہیں۔
یاد رہے کہ غزہ جنگ کے دوران بھی امریکا نے طویل عرصے تک خطے میں دو طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کیے تھے


