اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے نے اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں انقلاب کو ایرانی قوم کی خودمختاری، عوامی شراکت اور وقار کی بحالی کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انقلاب ایران نے آمرانہ اور غیر ملکی طاقتوں کے زیر اثر نظام کو ختم کر کے آزادی، انصاف اور خودمختاری کی راہ ہموار کی۔ گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران ایران نے ملکی وسائل اور ماہر افرادی قوت کی مدد سے سائنسی، تکنیکی اور اقتصادی شعبوں میں نمایاں ترقی حاصل کی۔

معاشی شعبے میں پابندیوں اور دباؤ کے باوجود صنعتی پیداوار، غیر تیل برآمدات، مالیاتی استحکام اور متنوع معیشت کے شعبے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے میں بھی بہتری سے عوام کی زندگی کے معیار میں اضافہ ہوا ہے۔
سفارت خانے کے مطابق ایران نے خارجہ پالیسی میں متوازن اور تعمیری کردار اپنایا اور ہمسایہ ممالک، ابھرتی معیشتوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیا۔ ایران نے امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے مکالمے اور کثیرالجہتی تعاون کی حمایت جاری رکھی ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکا کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے باوجود ایران نے جوہری امور پر مذاکرات میں حصہ لیا، تاہم صہیونی ریاست کی جانب سے امریکا کی شمولیت کے ساتھ ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات کے نتیجے میں جانی اور معاشی نقصانات ہوئے۔
سفارت خانے نے 28 دسمبر 2025 کو شروع ہونے والے عوامی احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں احتجاج پرامن تھا، مگر انتہا پسند عناصر نے اس کو بدامنی میں بدل دیا۔ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور عوام کی حفاظت کے ساتھ قومی سلامتی کو بھی یقینی بنایا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران آج بھی فوجی، سیاسی اور بیانیاتی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، تاہم اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارت کاری کے ذریعے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر ایران نے بانی انقلاب کے نظریات سے تجدید عہد کرنے اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔


