ڈھاکا: بنگلادیش میں عام انتخابات کے ساتھ منعقد کیے گئے قومی ریفرنڈم میں اب تک کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق 67 فیصد ووٹرز نے آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا ہے، جبکہ 33 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کی مخالفت کی ہے۔
ملک میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ یہ انتخابات طلبہ کی قیادت میں چلنے والی تحریک کے تقریباً 18 ماہ بعد ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کے دو دہائیوں پر مشتمل دورِ اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔
قومی انتخابات کے ساتھ ہونے والے ریفرنڈم میں عوام کو ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ کا انتخاب دیا گیا تھا۔ بنگلادیشی میڈیا کے مطابق اس ریفرنڈم کے نتائج ملک کے مستقبل کے سیاسی اور آئینی ڈھانچے کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔
ریفرنڈم کے ذریعے جولائی نیشنل چارٹر کے تحت وسیع آئینی اصلاحات کی منظوری طلب کی گئی تھی۔ حتمی سرکاری نتائج کا اعلان الیکشن کمیشن کی جانب سے کیا جائے گا۔


