بنگلادیش الیکشن کمیشن نے ملک میں گزشتہ روز منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان کر دیا ہے، جس کے مطابق طارق رحمان کی جماعت بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) دو تہائی اکثریت کے ساتھ کامیاب ہو گئی ہے۔
سرکاری نتائج کے مطابق 299 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں بی این پی نے 212 نشستیں حاصل کر کے واضح برتری حاصل کی، جبکہ جماعت اسلامی بنگلادیش 77 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔
بی این پی کے وزیراعظم کے امیدوار اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان کی جانب سے تاحال نتائج پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم جماعت نے کارکنان سے جشن منانے کے بجائے سجدۂ شکر ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے میں کردار ادا کرنے والی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) 30 میں سے صرف 5 نشستوں پر کامیاب ہو سکی۔
دوسری جانب جماعتِ اسلامی نے بعض حلقوں میں انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام عائد کیا ہے اور احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ جماعت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ ملک کی ترقی کے لیے تعمیری سیاست کریں گے۔
یاد رہے کہ 300 نشستوں پر مشتمل بنگلادیش کے ایوانِ زیریں جاتیا سنگساد کے 299 حلقوں میں انتخابات ہوئے، جبکہ ایک حلقے میں جماعتِ اسلامی کے امیدوار کے انتقال کے باعث پولنگ ملتوی کر دی گئی تھی۔


