سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ محسن نقوی نے سی ڈی ایف سے رجوع کرتے ہوئے عمران خان کی رہائی کے لیے باقاعدہ اور سنجیدہ بات چیت کی۔
اپنے بیان میں علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ سی ڈی ایف کے سامنے براہِ راست عمران خان کی رہائی کا معاملہ اٹھانے والے محسن نقوی واحد فرد تھے، جبکہ دیگر شخصیات نے اس فورم پر کھل کر اس موضوع پر گفتگو نہیں کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ محسن نقوی نے رہائی کے امکان پر بامقصد اور نتیجہ خیز گفتگو کی، جو ایک عملی قدم تھا۔ ان کے مطابق دیگر قیادت کی جانب سے اس معاملے پر خاطر خواہ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔
علی امین گنڈاپور نے اس پہلو کی بھی نشاندہی کی کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اب تک کوئی ٹھوس اور تعمیری قدم اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے بقول جماعت کے اندر سنجیدہ حکمتِ عملی کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔
انہوں نے کہا کہ محض بیانات اور جذباتی نعروں سے رہائی ممکن نہیں، اور نہ ہی احتجاج یا ہنگامہ آرائی کے ذریعے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔
ان کا مؤقف تھا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے سیاسی بصیرت، مؤثر مذاکرات اور قانونی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
علی امین گنڈاپور نے خبردار کیا کہ تصادم کی سیاست سے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق عملی اور نتیجہ خیز اقدامات کی کمی سب سے بڑا مسئلہ ہے، اور اگر سنجیدہ مکالمہ نہ ہوا تو پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔
انہوں نے زور دیا کہ جماعت کو داخلی اتحاد اور واضح حکمتِ عملی اپنانا ہوگی تاکہ رہائی کے معاملے پر مؤثر پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔


