آبنائے ہرمز کے قریب مشترکہ مشقوں کے عنوان سے روسی اور چینی جنگی جہازوں کی آمد کو عالمی طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلیوں کے تناظر سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
یہ آبنائے، جو دہائیوں تک امریکی بحری چھتری کے تحت رہی، آج دو ایٹمی طاقتوں کی براہِ راست آپریشنل موجودگی کا مشاہدہ کر رہی ہے۔
یہ پیش رفت محض بحری تربیت سے آگے بڑھ کر اس سوال کو ازسرِنو متعین کرتی ہے کہ دنیا کے سب سے اہم توانائی گزرگاہ پر فوجی موجودگی کا حق کس کو حاصل ہے۔
یہ اسٹریٹجک پیغام دو پہلو رکھتا ہے پہلا یہ کہ خلیج میں امریکی بحری اجارہ داری کو توڑنا اور یہ ثابت کرنا کہ آبی راستوں کی سکیورٹی اب یکطرفہ کنٹرول کا میدان نہیں رہی۔
دوّم یہ کہ ایک بالواسطہ طاقت کی توازن کی فضا قائم کرنا، جس کے تحت ایران کے ساتھ کسی ممکنہ تصادم کو محدود علاقائی تنازع کے بجائے وسیع بین الاقوامی معادلے میں تبدیل کیا جا سکے۔
آبنائے ہرمز کے قریب روس اور چین کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ عالمی توانائی کی شاہراہیں اب صرف واشنگٹن سے منظم نہیں ہو رہیں، اور بحری طاقت کا توازن مشرق کی طرف جھکنا شروع ہو چکا ہے۔ یعنی اب پیغام واضح ہے کہ خلیج اب امریکی جھیل نہیں رہی۔


