برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم کے بھائی شہزادہ اینڈریو کو سرکاری عہدے میں بدعنوانی کے شبے میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس مشرقی انگلینڈ میں واقع اینڈریو کی رہائش گاہ پہنچی جہاں چھ بغیر نشان والی پولیس گاڑیاں دیکھی گئیں، جبکہ آج صبح سینڈرنگھم اسٹیٹ میں واقع رہائش گاہ پر آٹھ سادہ لباس اہلکار بھی موجود تھے۔
رپورٹس کے مطابق پولیس نے رواں ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ شہزادہ اینڈریو سے متعلق الزامات کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان پر امریکی مالیاتی مجرم جیفری ایپسٹین کو مبینہ طور پر خفیہ سرکاری دستاویزات فراہم کرنے کے الزامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا تھا۔
شہزادہ اینڈریو، جن کا پورا نام اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈزر ہے، کسی بھی غیر قانونی عمل میں ملوث ہونے کی تردید کرتے رہے ہیں، البتہ انہوں نے ایپسٹین سے دوستی پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔
ایپسٹین فائلز کی حالیہ دستاویزات سامنے آنے کے بعد شہزادہ اینڈریو نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا، جبکہ حکام کے مطابق معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ادھر برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں اور ملک کے بنیادی اصولوں کا اطلاق ہر کیس پر یکساں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ارکان پارلیمنٹ اس معاملے پر بحث کرنا چاہیں تو حکومت رکاوٹ نہیں بنے گی۔
ٹیمز ویلی پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک شخص کو پبلک آفس میں بدانتظامی کے شبے میں مکمل جائزہ لینے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس برکشائر اور نارفوک میں واقع پتوں کی تلاشی بھی لے رہی ہے۔ قومی رہنما اصولوں کے تحت گرفتار شخص کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔
اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل کے مطابق تحقیقات دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے جاری رہیں گی اور مناسب وقت پر مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔


