وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر سرحد پار سے امن و امان کو خطرات لاحق رہے تو پاکستان افغانستان میں نئی فضائی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر دفاع نے ملک کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے کابل میں قائم طالبان حکومت اور بھارت کی مبینہ ملی بھگت سے جاری ’پراکسی جنگ‘ کا شاخسانہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک کابل کی جانب سے امن کی ٹھوس اور قابلِ اعتماد ضمانت فراہم نہیں کی جاتی، پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا، جن میں فضائی کارروائی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکومت کا مؤقف ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغانستان میں موجود طالبان حکومت کی سرپرستی حاصل ہے اور یہی عناصر ملک میں بڑی شدت پسند کارروائیوں میں ملوث ہیں۔


