برطانوی اخبار دی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غزہ میں 350 ایکڑ سے زائد رقبے پر مشتمل ایک بڑے فوجی اڈے کی تعمیر کا ارادہ ظاہر کیا تھا، جس میں پانچ ہزار فوجیوں کی گنجائش رکھی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ منصوبہ خطے میں سیکیورٹی انتظامات اور امریکی اسٹریٹجک مفادات کے تناظر میں تیار کیا گیا تھا۔ اس فوجی اڈے کا مقصد علاقے میں امریکی فوجی موجودگی کو مضبوط بنانا اور ممکنہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا بتایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق منصوبے کے تحت ایک وسیع و عریض رقبے پر مستقل تنصیبات، رہائشی سہولیات، آپریشنل مراکز اور سیکیورٹی انفراسٹرکچر قائم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ تاہم اس منصوبے کے عملی خدوخال، ٹائم لائن اور موجودہ حیثیت سے متعلق تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔
سیاسی و سفارتی حلقوں میں اس خبر کے بعد مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، خصوصاً اس حوالے سے کہ غزہ جیسے حساس اور متنازع خطے میں کسی بھی غیر ملکی فوجی اڈے کے قیام کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کسی بھی اقدام کے علاقائی سلامتی، فلسطین-اسرائیل تنازع اور بین الاقوامی ردِعمل پر گہرے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
تاحال امریکی حکام کی جانب سے اس رپورٹ پر باضابطہ اور تفصیلی ردِعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ خطے کی صورتحال اور سفارتی پیش رفت پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔


