ایران نے امریکی جارحیت کے خدشات کے پیشِ نظر اقوام متحدہ میں باضابطہ خط جمع کرا دیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی فوجی حملے کی صورت میں تہران بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مشن کی جانب سے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو ارسال کیے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات خطے میں ممکنہ فوجی کارروائی کے حقیقی خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
خط میں کہا گیا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں اور نہ ہی کشیدگی میں اضافہ اس کی پالیسی ہے، تاہم اگر اس کی خودمختاری یا سلامتی کو نشانہ بنایا گیا تو وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔
ایرانی مشن نے متنبہ کیا کہ کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں خطے میں موجود مخالف قوتوں کے فوجی اڈے، تنصیبات اور متعلقہ اثاثے ’’جائز اہداف‘‘ تصور کیے جا سکتے ہیں۔
خط میں امریکی صدر کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں عندیہ دیا گیا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکا کو برطانوی علاقے میں واقع ڈیاگو گارشیا اور برطانیہ کے فیئر فورڈکے ایئر فیلڈز استعمال کرنا پڑ سکتے ہیں۔
ادھر امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ حملے میں ایرانی فوجی یا سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اور اس حکمتِ عملی کا مقصد ایران کو جوہری معاہدے پر آمادہ کرنا بتایا گیا ہے۔ تاہم ایرانی انکار کی صورت میں کارروائی کے دائرہ کار میں توسیع کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
گزشتہ روز ایک اجلاس سے خطاب میں امریکی صدر نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ تہران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اسے امن کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، بصورتِ دیگر نتائج سنگین ہوں گے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری نقل و حرکت، سخت بیانات اور پسِ پردہ سفارتی سرگرمیوں نے صورتحال کو نہایت حساس بنا دیا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے زور دیا جا رہا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات ناگزیر ہیں۔


